ان کہی داستانیں ۔ تقسیمِ ہند 1947ء – محمد اخلاق بھٹی ۔ راولپنڈی

ان کہی داستانیں ۔ تقسیمِ ہند 1947ء – محمد اخلاق بھٹی ۔ راولپنڈی

محمد اخلاق بھٹی ۔ راولپنڈی

ڈاکٹر مریم چغتائی

تقسیمِ ہند 1947ء پر ہارورڈ ساؤتھ ایشیاء انسٹیٹوٹ کی تقسیمِ ہند کی کہانیوں کو اکٹھا کرنے کے سلسلے میں تحقیق جاری ہے۔اِس تحقیق کے دوران بہت سی ایسی کہانیاں سننے کو ملیں کہ اکثر غم کی کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔یہ ایک ایسی ہجرت تھی جس میں ہر کسی نے کچھ نہ کچھ ضرور کھویا تھا۔ اِس ہجرت میں بہت سے انسانیت کے ہمدردی سے بھرے واقعات کے ساتھ ساتھ انسانی درندگی کی بھی بہت سی داستانیں بھری پڑی ہیں۔ ہم پورے ملک سے اِن تمام کہانیوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اپنے نمائندوں کی وجہ سے مجھے پورے ملک سے مختلف کہانیاں اور واقعات کا پتہ چلتا رہتا ہے اور یہ کہانیا ں اتنی پُر اثر ہیں کہ میرے دل میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ اِن کہانیوں کو لوگوں تک اور خاص طور پر اپنی نوجوان نسل تک پہنچایا جائے۔ جن کو آج یہ معلوم ہی نہیں کہ وہ کیا عوامل تھے جن کی وجہ سے یہ ملک بنا اور مسلمانوں کے تقسیم سے پہلے کیا حالات تھے ۔ کیا وجہ تھی مسلمانوں کو قائدِ اعظم کی تقریر سمجھ تو نہیں آتی تھی مگر اُن میں اپنا نجات دہندہ نظر آتا تھا اور کیسے وہ اُن سے والہانہ عشق کرتے تھے۔اِ ن سب باتوں کے جواب ہمیں اِن تمام کہانیوں سے ملتے ہیں جو کہ ہم نے انفرادی طور پر مختلف مکتب ہائے فکر کے لوگوں سے اکٹھی کی ہیں۔
میں نے یہ سوچا کہ اِن کئے گئے انٹرویوز کی ریکارڈنگ کو سن کر کیوں نہ اِن لوگوں کی داستانوں پراخبار میں آرٹیکل چھپوائے جائیں۔ اور یہ کہانیاں جو اپنے اندر ایک تاریخ رکھتی ہیں اور ہر گزرتے پل کے ساتھ ختم ہوتی جا رہی ہیں اِن کو لوگوں تک پہنچایا جائے۔اِس سلسلے میں پہلی کہانی جناب اخلاق احمد صاحب کی میں نے سنی اور اِس کو تحریر میں لانے کا فیصلہ کیا۔اِن انٹرویوز کو کرتے ہوئے انٹرویو دینے والے کی رضا مندی لی گئی ہے۔اِس انٹرویو کو ہمارے تقسیمِ ہند پراجیکٹ کے پراجیکٹ مینیجر سجاد عزیز خان نے لاہور میں کیا تھا۔
محمداخلاق احمد صاحب آج کل راولپنڈی میں رہائش پزیر ہیں اور اللہ کے فضل سے اِس وقت 82سال کی عمر میں ہیں۔محمد اخلاق بھٹی صا حب اپنے زندگی کے حالات بتاتے ہیں کہ وہِ ہندوستان کی ریاست پٹیالہ کے رہنے والے ہیں۔ میں اُن کی کہانی آپ تک پہنچانے کی کوشش کرتی ہوں۔
محمداخلاق احمد صاحب ریاست پٹیالہ کے رہنے والا ہیں اور ریاست پٹیالہ ایک سکھ ریاست تھی جس کا مہاراجہ بھو پندر سنگھ بہت مشہور مہاراجہ تھا۔ یہ مہاراجہ ایک کرکٹر کے طور پر مشہور تھا۔ اُس کی پولو اور کرکٹ ٹیم پورے ہندوستان میں مشہور تھیں۔اِس مہاراجہ کے دو بیٹے تھے جن کا نام یاداوندرا اور بھلندرا سنگھ تھے دونوں نے فسٹ کلاس کرکٹ کھیلی۔ مہاراجہ بھو پندر سنگھ 1938ء میں فوت ہو گیا اور اُس کا بیٹا یاداوندرا سنگھ ریاست کا مہاراجہ بن گیا۔ اور تقسیم کے وقت تک وہی مہاراجہ رہا۔ریاست پٹیالہ اگرچہ ایک سکھ ریاست تھی مگر اِس کے زیادہ تر انتظامی امور مسلمانوں کے پاس تھے یہاں محنت مزدوری اور کاری گری والے تمام کام مسلمانوں کے ذمہ تھے۔ جیسے وہاں کا وزیرِاعظم مسلمان تھا۔ جیسے کہ پہلے بتایا کہ مسلمان اپنی ہنر مندی کی وجہ سے مشہور تھے تو ایک دفعہ موتی باغ میں مہاراجہ کے لیے ایک بہت بڑا تالاب بنایا گیا۔ مہاراجہ کو اُس کے دوسری طرف جانے کے لیے بہت پیدل چلنا پڑتا تھا۔ تو اُس نے مسلمانوں سے کہا کہ اِس کا کوئی حل نکالوتاکہ مجھے اتنا زیادہ نہ چلنا پڑے ۔ تو یہاں مسلمانوں نے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ہوا میں جھولنے والا پل(Hanging Bridge) بنایا۔مہاراجہ نے جب یہ دیکھا تو وہ بہت خوش ہوا۔وہ تالاب کے اُوپر سے جھولتے ہوئے دوسری طرف جاتا اور رستے میں رک کر اپنے محل کا نظارا بھی کرتا۔
اِس ریاست میں ہندو ، مسلمان اور سکھ بہت پُر امن طریقے سے رہتے تھے۔ محمداخلاق احمد صاحب کے گھر کے ساتھ ہی ایک مندر تھا جس میں سکھ اپنے تہوار پر جھولے جھولتے تھے۔ مجموعی طور پر مسلمانوں کے معاشی حالات بہت کمزور تھے۔ کاروبار پر ہندووں کی اجاراداری تھی ۔اور مسلمانوں کی اکثریت اُن کی مقروض تھی۔ بہت کم مسلمان تھے جو کہ خوشحال تھے۔ اور جو تھے اُن کے بچے عطر کے ساتھ نہا کر شام کو بازار آیا کرتے تھے۔ محمداخلاق احمد صاحب بتاتے ہیں

کہتقسیم سے دو ماہ پہلے اُن کے بھائی کی شادی ہوئی اور ہم دلہن لینے کے لیے دوسری ریاست (سنگرور) گئے تھے۔اُس دور میں یہ شادی 3سو روپے میں ہوئی تھی۔مسلمان اپنے گھروں میں تاک(دیواروں میں پیسے رکھنے کی جگہ) بنا کر رکھتے تھے اور اُس میں اپنی بچت کے پیسے چھپا کر رکھتے تھے اور ضرورت کے وقت استعمال کرتے تھے مگر زیادہ تر مسلمانوں کو ہندوں نے قرض کے چنگل میں پھنسایا ہوا تھا۔ جیسے کہ آج کل آئی ایم ایف نے ہمارے ملک کو قرض کے چنگل میں پھنسایا ہوا ہے۔
تقسیم کے وقت سے پہلے تو سب کچھ ٹھیک تھا مگر جیسے ہی پاکستان کی طرف سے آنے والے سکھوں نے وہاں ڈیرے ڈالنے شروع کیے تو حالات خراب ہونا شروع ہو گئے۔ اور پھر ایک دم سے افراتفری پھیل گئی۔ یہاں تک کہ پوری ریاست پٹیالہ میں سکھوں نے محلے کے محلوں کو ذبہ کرنا شروع کردیا۔ اورپوری ریاست میں سے صرف دو محلے بچے تھے جن میں سے ایک ہمارا تھا اور ایک وزیرِاعظم کا۔ ہمارے محلے کے بچنے کا سبب یہ تھا کہ مسلمان یہاں کافی بڑی تعداد میں تھے جس کی وجہ سے اِن پر حملہ کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔
وہاں کے رہائشی ہندوں اور سکھوں نے وہاں کے کسی مقامی مسلمان کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جو بھی نقصان پہنچایا وہ آنے والے سکھوں نے پہنچایا۔میری والدہ گھر میں روٹیاں پکا رہی تھیں کہ ایک دم سے محلے میں شور مچ گیا کہ سکھوں نے حملہ کردیا ہے اور وہ قتلِ عام کر رہے ہیں۔ بس پھر میری والدہ نے ہمارا ہاتھ پکڑا اور ہم بھاگ کر اُس جگہ پر اکھٹے ہو گئے جہاں سب مسلمان اکھٹے تھے۔اُس وقت سکھ کنواری عورتوں کو اٹھاکر لے گئے اور جو حاملہ تھیں اُن کے پیٹ میں نیزے مار کر کہتے اب جاؤ پاکستان۔اک عجیب خوف کا عالم تھا جیسے ایک قیامت کی گھڑی ہو۔ سب لوگ ایک میدان میں اکٹھے تھے اور سوچ رہے تھے کیا کِیا جائے۔ تو فیصلہ ہوا کہ ریاست پٹیالہ سے 25کلومیٹر کے فاصلے پر ایک قلع ہے جس کا نام بہادر گڑھ تھا ۔ اُس قلع میں اکھٹے ہوں۔ پس تمام لوگ اُس قلعے کی طرف چل دئے۔
اِس قلعے کے اردگرد ایک نہر تھی جو کہ حفاظت کے لیے بنائی گئی تھی۔ رات کا وقت ہونے کی وجہ سے ہم اُس قلع اور نہر کے بیچ میں رک گئے اور قلعے کے دروازے کے کھلنے کا انتظار کرنے لگے۔اِسی دوران جن لوگوں کے پاس کچھ کھانے کو تھا تو وہ کھانے کا انتظام کرنے لگے۔ اور میرے والد جو کہ اپنے ساتھ اُس وقت کچھ آٹا لائے تھے وہ بھی کھانا پکانے کی تیاری کرنے لگے۔اتنے میں ایک عورت اُن کے پاس آئی اور کہنے لگی بھائی یہ بچہ لے لو اور تھوڑا سا آٹا دے دو۔اِس طرح کے کئی دِل ہلا دینے والے مناظر روزانہ ہماری آنکھوں کے سامنے رونما ہو رہے تھے۔میرے والد نے اپنے پاس سے اُن کو کچھ آٹا دے دیا۔ پھر کچھ وقت کے بعد ہمیں قلعے کے اندر جانے کی اجازت مل گئی۔ ہم لوگ اُس قلعے میں تقریباً تین ماہ رہے اور وہ تین ماہ جس قرب اور تکلیف میں لوگوں نے گزارے وہ یا تو خدا جانتا ہے یا پھر جن کو یہ حالات درپیش تھے وہی جانتے تھے۔اگلے کچھ دِن کے اندر بہادر گڑھ قلعے میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ اکھٹے ہو چکے تھے۔ اِن تمام لوگوں کے لیے کھانا پینا اور زندگی کی دوسری ضروریات کو پورا کرنا ایک بہت مشکل مرحلہ تھا۔ لوگوں نے خندقیں کھود کر واش روم بنائے۔ روزانہ لوگ پیدا اور فوت ہو رہے تھے۔ وفات پانے والوں کو قلعے کے دروازے پر رکھ کر واپس آجایا جاتا تھا۔ اور ایک دو دِن بعد جیسے ہی آٹھ دس لوگوں کی میتیں اکٹھی ہوتیں تو ایک بیل گاڑی آتی اور اُن لاشوں کو قلعے سے تھوڑی دور جا کر دفنا دیا جاتا۔لوگوں نے اپنے زیور بیچ کر آٹا خریدا۔
تین ماہ بعد ہمیں پتا چلا کہ مسلمانوں کو لے جانے کے لیے ایک ٹرین کا انتظام ہو گیا ہے تو مسلمان ٹولیوں اور خاندانوں کی شکل میں ٹرین پر پاکستان جانا شروع ہو گئے۔ہماری باری ٹرین کے تیسری دفعہ آنے پر آئی اور ہماری گاڑی کو پاکستان کی طرف جاتے ہوئے دو جگہوں پر خطرے کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک تو دریائے بیاس پر سکھوں نے ہماری گاڑی کو روک لیا۔اور دوسری دفعہ اٹاری سے کچھ پہلے سکھوں کی طرف سے روک لیا گیا۔ یہاں سکھوں نے حملے کی کوششیں کی مگر نیپال کی طرف سے بھرتی فوج جو کہ اُس وقت ہماری ٹرین کی حفاظت پر مامور تھے انہوں نے سکھوں کو ہم پر حملہ آور ہونے سے روکا۔اگر یہ گارڈز نہ ہوتے تو ہماری پوری گاڑی کو مار دیا جاتا۔جیسے ہی ہم لوگ پاکستان میں داخل ہوئے تو ایک دم سے نعرے لگنا شروع ہو گئے اور ہم یہ سمجھے کہ پھر حملہ ہو گیا ہے یہ تو بعد

میں پتہ چلا کہ ہم پاکستان میں داخل ہوگئے ہیں اور وہاں لوگوں نے سجدے کئے۔پاکستان میں آنے کے بعد ہم اپنے رشتے داروں کے گھر گئے جو کہ لاہور کے پیسہ اخبار میں رہائش پذیر تھے۔ یہاں کچھ دِن قیام کے بعد سب ہجرت کرنے والے پاکستان کے مختلف علاقوں میں رہائش کی غرض سے چلے گئے۔ شروع کے دور میں پاکستان میں بستے ہوئے ہمیں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مگرکچھ عرصے بعد سب کچھ درست ہونا شروع ہو گیا۔ میں جب اپنے ماضی کے تمام سفر کو دیکھتا ہوں تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے تاریخ میں ایک عظیم قربانی کا دور دیکھا ہے۔ اور اُس وقت کے حالات کے مطابق یہ درست عمل تھا کہ پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ کیونکہ متحدہ ہندوستان میں مسلمان مجموعی طور پر بہت قسم پرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے تھے۔اللہ نے مسلمانوں کو پاکستان کی شکل میں ایک ایسی زمیں دے دی جس میں وہ اپنی حالت کو بہتر بنا سکتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد لوٹنے کا عمل شروع تو ہو چکا تھا کہ جن کے پاس کچھ نہ تھا وہ بھی بہت کچھ کے مالک بن گئے مگر دوسری طرف کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو اِس وطن کو بنانے میں جُڑ گئے۔ پاکستان ہمیشہ رہنے کے لیے بنا ہے یہی بات قائدِاعظم بار بار کہتے تھے۔اور یہ درست بھی لگتی ہے۔ جس بے دردی سے اِس ملک کو لوٹا جاتا رہا اور لوٹا جا رہا ہے یہ ایک معجزہ کے طور پر پھر بھی قائم و دائم ہے اور رہے گا۔ ا ن شاء اللہ
یہ وہ داستان ہے جو کہ اُس وقت تقسیم کے مراحل سے گزرے ہوئے لوگوں کا کچھ احوال بتا رہی ہے۔ کسی کے جذبات کو الفاظ کا روپ دینا ایک مشکل کام ہے مگر میں نے اپنے تعیں کوشش کی ہے کہ انٹرویو دینے والے کے مافی الضمیر کو انتہائی سادہ الفاظ میں قارئین تک پہنچاؤں۔ میں نے یہ کام ایک ایسی کاوش کے طور پر شروع کیا ہے کہ میں اِس پراجیکٹ کے دوران سامنے آنے والی کہانیوں بلکہ یوں کہا جائے عظیم قربانیوں کی کہانیوں کو اپنے اُن لوگوں تک پہنچاؤں جن کو اُس وقت کے حالات کا ادراک نہیں ہے۔ اپنی آنے والی نسلوں کو اِن قربانیوں سے آگاہ کرنا آج جتنا ضروری ہے اتنا شاید پہلے کبھی نہیں تھا۔
اِس سلسلے میں قارئین کی تجاویز کو تہ دِل سے خوش آمدید کہوں گی۔

بقول علامہ اقبال!

پھول بے پرواہیں، تو گرمِ نوا ہو یا نہ ہو
کارواں بے حس ہے، آوازِ درا ہو یا نہ ہو

Originaly Posted Here