ان کہی داستانیں ۔ تقسیمِ ہند 1947ء – میجر ریٹائرڈ عبدالرحمٰن ۔ راولپنڈی

ان کہی داستانیں ۔ تقسیمِ ہند 1947ء – میجر ریٹائرڈ عبدالرحمٰن ۔ راولپنڈی


میجر ریٹائرڈ عبدالرحمٰن ۔ راولپنڈی

ڈاکٹر مریم چغتائی

تقسیمِ ہند 1947ء پر ہارورڈ مِتل ساؤتھ ایشیاء انسٹیٹوٹ کی تقسیمِ ہند کی کہانیوں میں سے یہ کہانی جناب میجر ریٹائرڈ عبدالرحمٰن صاحب کی ہے۔میجر صاحب نے تقسیم کے وقت جموں سے سیالکوٹ کو حجرت کی تھی۔میجر صا حب کے بقول تقسیم کے وقت اُن کے پانچ تایا زاد بھائی جموں میں پرنس آف ویلز کالج میں پڑھتے تھے اور میجر صاحب کو بھی تعلیم کے سلسلے میں جموں بھیج دیا گیا۔ابھی تعلیم کا سلسلہ شروع ہی ہوا تھا کہ اچانک فسادات پھوٹ پڑے۔ میری عمر اُس وقت سولہ سال تھی اور اتنی چھوٹی عمر میں یہ فیصلہ کرنا کہ کس طرح پاکستان جایا جائے یہ ایک مشکل فیصلہ تھا۔ جموں میں ہندوں اور مسلمانوں کے الگ الگ محلے تھے۔اردوبازار جموں کی سڑک بڑی تھی اور اُس کے ایک طرف ہندوں کے محلے اور دوسری طرف مسلمانوں کے محلے تھے۔ دلپتیاں، محلہ جیون شاہ اور محلہ استاد کے ناموں سے مسلمانوں کے محلے تھے۔ مسلمانوں کو ایک سازش کے تحت جموں سے دو مِیل کے فاصلے پر پولیس گراونڈ میں اکٹھا کیا گیا تاکہ اُن کو وہاں سے سواریوں میں روانہ کر دیا جائے اور یہ ہدایت کی گئی کہ ایک چھوٹا سا اٹیچی ساتھ رکھ سکتے ہیں۔کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو کہ اپنے گھروں کو چھوڑنا نہیں چاہتے تھے تو وہ وہیں رہ گئے مگر زیادہ اکثریت میں مسلمان سیالکوٹ جانے کے لئے اُس میدان میں جمع ہوگئے۔پہلے دِن پینتالیس گاڑیاں صبح کے وقت آگئیں۔اِن گاڑیوں میں خواتین کو اندر بٹھایا گیا جب کہ مرد وں کو گاڑیوں کی چھتوں پر بٹھایا گیا۔اِس طرح پہلا قافلہ پاکستان کی طرف روانہ ہو گیا۔ مگر جیسے ہی یہ قافلہ سامبہ روڈ پر پہنچا تو ہندوں نے جو کہ پہلے ہی وہاں چھپے ہوئے تھے گاڑیوں کو گھیر کر حملہ کر دیااور لوگوں کو چن چن کر گولیوں سے مار دیا گیا۔ بعد میں اِن گاڑیوں کو وہیں دھو کر دوبارہ اور مسلمانوں کو لانے کے لیے بھیج دیا گیا۔یہ دِن 6 نومبر 1947 ء کا تھاجب یہ گاڑیاں ہمیں لے کر روانہ ہوئیں۔ جموں ایک پہاڑی کے دامن میں ہے اور اِس کے ساتھ سے دریائے توی بہتا ہے۔اِس دریا کو عبور کر کے دوسری طرف دریا کے ساتھ ایک سڑک جاتی ہے جو کہ پاکستان کو راستہ جاتا ہے۔ہم سب بہت خوش تھے کہ ہم پاکستان جا رہے ہیں۔صبح کا وقت تھا سورج کی روشنی نکل رہی تھی۔ ہم نے دریا ئے توی کا پُل عبور کیا تو آگے چھاوٗنی تھی۔ چھاوٗنی عبور کرتے ہی آگے ایک موڑ تھا جس کے بعد تمام گاڑ یوں کو روک دیا گیا۔ہم بہت حیران ہوئے کہ گاڑیوں کو کیوں روک دیا گیا ہے۔ اتنی ہی دیر میں ہم کیا دیکھتے ہیں کہ سینکڑوں کی تعداد میں ہندو بلوائی جے ہند کے نعرے لگاتے ہوئے ہماری گاڑیوں پر ٹوٹ پڑے۔جوان عورتوں کو کھیچ کر لے گئے۔تلاشی لیتے جاتے اور مارتے جا رہے تھے۔گاڑی کی چھت پر بیٹھے ہونے کی وجہ سے میں نے ساتھ بہنے والی نہر میں چھلانگ لگا دی۔میری طرح اور لوگوں نے بھی چھلانگیں لگا دیں اور نہر کے دوسری طرف اترنے کے لیے تیرنا شروع کیا تو ہندوں نے گولیاں مارنا شروع کر دیں۔ چند لمحوں میں ساری نہر خون سے سرخ ہوگئی۔میں نے واپس نہر کے کنارے کی طرف جانا شروع کردیا سڑک اوپر تھی اور میں اُس کی اوٹ میں آگیااور کنارے کے ساتھ ساتھ تیرتے ہوئے تقریباً ایک میل کا سفر طے کر لیا۔میں نے محسوس کیا کہ میں خطرے سے آگے نکل آیا ہوں تو میں باہر آگیا۔ باہر نکلا ہی تھا کہ انڈین آرمی کی ایک جیپ نے مجھے پکڑ لیا اور پیسوں کا تقاضہ کیا جو کہ میرے پاس نہیں تھے۔مجھے قتل کرنے کے لیے انہوں نے سکھوں کو بلایا تو اِسی دوران وہاں چھپے ہوئے کچھ مسلمان یہ سمجھے کہ یہ تو مارنے لگے ہیں تو انہوں نے دوڑ لگا دی۔ سب کی توجہ اُن کی طرف ہو گئی۔ میرے قریب ہیں ایک گڑھا تھا جس میں صرف میرا جسم آسکتا تھا میں نے خود کو اُس کے اندر چھپا لیا۔اِس طرح میں کافی چیخ و پکار سنتا رہا اور یہ سلسلہ دوپہر تک جاری رہا۔ دوپہر کے بعد مکمل خاموشی چھا گئی۔مگر پھر بھی ہم اپنی اپنی جگہوں پر چھپے رہے۔ شام کو مغرب کا وقت تھا جب انڈین آرمی کے ایک مسلمان بریگیڈیئرعثمان کی وہاں آمد ہوئی تو اُس نے کہا کہ ہمیں تو لوگوں کی مدد کے لیے بھیجا گیا تھا۔ یہ ہم کیا کر رہے ہیں۔اُس نے اعلان کروایا کہ جو لوگ باقی زخمی اور زندہ ہیں وہ نکل آئیں ہم اُن کو ہسپتال لے جائیں گے۔لوگ اپنی جگہوں سے نکل آئے اور میں بھی نکل آیا۔ وہ ہمیں ہسپتال لے کر گئے مگر ہسپتال والوں نے ہمارا علاج کرنے سے انکار کر دیا۔ہمیں وہاں سے جموں توی کے قریب ایک میدان میں لایا گیا جس کا نام تنگیانہ تھا۔ یہاں کیمپ میں زیادہ تعداد بوڑھوں اور زخمیوں کی تھی جن کو یہاں سے فوج کے ذریعے پاکستان منتقل کیا گیا۔
تقسیمِ ہند کے وقت ایک طرح سے جنگی پیدا ہو گئے تھے۔ اِس تقسیم میں بہت انسانی خون بہا ۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حالات کو پُر امن طریقے سے حل کیا جاتا مگر یہ سب اتنا اچانک ہو کہ حالات افراتفری کا شکار ہو گئے۔ اِس تقسیم نے ہمیں یہ بھی سبق سکھا یا ہے کہ نفرتوں کو بڑھانے سے انسانیت کو بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔

Originaly Published Here