خیبر پختونخواہ  ایمپیکٹ چیلنج پروگرام  ۔    توقعات  اور  نتائج

خیبر پختونخواہ ایمپیکٹ چیلنج پروگرام ۔ توقعات اور نتائج

  خیبر پختونخواہ ایمپیکٹ چیلنج پروگرام ۔ توقعات اور نتائج

ڈاکٹر مریم چغتائی

خیبر پختونخواہ ایمپیکٹ چیلنج پروگرام کے منفرد ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس پروگرام کو خیبر پختونخواہ کے زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے۔ یہ پروگرام شروع کرنے سے پہلے میں خود خیبر پختونخواہ کے مختلف علا قوں میں گئی اور یہاں کے نوجوانوں کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کی۔ اس پروگرام کو ڈیزائن کرتے ہوئے یہاں کے حالات،ماحول اور زمینی حقائق کو سامنے رکھا گیا ہے۔ یہ ایک انٹرپرنیور شپ پروگرام ہے۔ اس پروگرام کا آغاز دسمبر 2017میں سینئر منسٹر عاطف خان نے لمز کے اشتراک سے کیا۔ یہ پروگرام سینئر منسٹر عاطف خان کی خصوصی توجہ کی وجہ سے ممکن ہو سکا ہے۔ میرے مشاہدہ میں یہ بات آئی ہے کہ سینئر منسٹر عاطف خان نوجوانوں کے بارے میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں اور اپنے صوبے کے نوجوانوں کی بہتری کے لیے ہر وقت کچھ کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔ اپنی وزارت کے دوران وہ اپنے کاموں کے ذریعے اس بات کو ثابت بھی کر رہے ہیں۔ خیبر پختونخواہ ایمپیکٹ چیلنج پروگرام بھی اُن کی سوچ اور ویثرن کے مطابق اپنے علاقے کے پسماندہ نوجوانوں کو خود مختار بنانے کی جانب ایک قدم ہے جس میں پورے خیبر پختو نخواہ میں سے 4465 نوجوانوں نے حصہ لیاہے۔
اِ

اِس پروگرام میں خیبر پختونخواہ کے باصلاحیت نوجوانوں کو منتخب کرنا، ان کو تربیت دینا، کاروبار شروع کرنے سے لیکر کاروبار کو چلانے کے سارے عمل میں ان کی مدد کرنا شامل تھا۔ اس طریقہ کار میں لمز یونیورسٹی نے تربیت فراہم کرنے کا اہتمام کیا جبکہ خیبر پختونخواہ حکومت نے (KPIC) پروگرام کے پہلے مرحلے میں نوجوانوں کے لئے پچاس کروڑ روپے مختص کئے۔ اس مرحلے کی شاندار کامیابی کے بعد خیبر پختونخواہ حکومت نے (KPIC) کے دوسرے مرحلے کے لئے مزید دو بلین کی منظوری دی ہے۔ پہلے مرحلے میں دی گئی گرانٹس قرض نہیں ہیں جو اِن نوجوانوں کو واپس کرنی پڑیں۔
اس انٹرپرنیور پروگرام کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں کوئی بھی شخص حصہ لے سکتا تھا اور اِس پروگرام کی ورکشاپ میں شمولیت اختیار کرسکتا تھا۔ یہ ورکشاپ انٹرپرنیور شپ پروگرام سے بھی ابتدائی مرحلہ ہے جس میں ایک شخص کو ایک انٹرپرنیور کی طرح سے سوچنا سکھایا جاتا ہے۔ دور افتادہ اور پسماندہ علاقے کے نوجوانوں کے لیے اس طرح کی ورکشاپس بہت اہم ہیں جہاں سے سیکھ کر وہ اپنے کاروبار کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے خوشحالی اور ترقی کا باعث بن سکیں۔

اِس پروگرام کے پہلے مرحلے کی تفصیلات کچھ اس طرح سے ہیں کہ خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں سے کل 402 نوجوانوں نے اس انٹرپرنیور پروگرام کے تحت تربیت مکمل کی۔ اس پروگرام کے تحت تمام لوگوں کو ابتد اء سے کاروبار شروع کرنے کی تربیت (جس کو On site incubation کہا جاتا ہے) بھی مہیا کی گئی۔ پروگرام کے اس عمل میں لمز یونیورسٹی نے خیبر پختونخواہ کی 9 یونیورسٹیز کے ساتھ اشتراک کیا جن میں یونیورسٹی آف سوات، ہزارہ یونیورسٹی ما نسہرہ، یونیورسٹی آف ہری پور، کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسمائیل خان، یونیورسٹی آف مالاکنڈ، عبدالولی خان یونیورسٹی مردان، یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں، وومن یونیورسٹی مردان شامل ہیں۔ لمز یونیورسٹی نے ان یونیورسٹیز کی تربیت کا اہتمام کیا تاکہ یہ اپنے علاقے کے لوگوں کی تربیت میں اہم کردار ادا کر سکیں۔ اس طرح یہ کوشش بھی کی گئی کہ صوبے کے ہر علاقے کو نمائندگی دی جائے۔
اس انٹرپرنیور پروگرام کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اس پروگرام میں صوبے کی خواتین کو بھی بھر پور نمائندگی دی گئی ہے اور کل 100 خواتین کو اس انٹرپرنیور پروگرام کی تربیت دی گئی ہے جن میں سے 67 خواتین کو کاروبار کرنے کے لیے 76.1 ملین کی رقم فراہم کی گئی۔ نہ صرف یہ کہ اس پروگرام میں خواتین کو شامل کیا گیاہے بلکہ خصوصی افراد ، خواجہ سرا، اقلیتوں اور پسماندہ علاقوں کو بھی نمائندگی دی گئی ہے۔ ان سپیشل افراد کی تعداد 35 ہے جن کو 12 کاروباروں کو شروع کرنے کے لئے 20.8 ملین کی رقم دی گئی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق اب تک کل 402 نوجوانوں نے تربیت حاصل کی۔اِن میں سے کل 311 نوجوانوں کو اس پراجیکٹ کے آخر تک فنڈ مہیا کئے جا چکے ہیں۔جون میں آخری تقریب کے زریعے 225.3 ملین روپے تقسیم کرد ئیے گئے اِس طرح سے اِس پراجیکٹ کے اختتام پر کل 318 ملین رقم فراہم کردی گئی ہے۔

اس انٹرپرنیور پروگرام میں نوجوانوں کو انٹرپرنیور شپ سکلز کی تربیت دی گئی جس میں انہیں بنیادی اکاونٹنگ، مارکیٹنگ، ریکارڈ کیپنگ اور بزنس مینجمنٹ سکلز سکھائی گئیں اور تین دن ڈیزائن تھِنکِنگ کی ورکشاپ بھی کرائی گئی جس کے بعد یہ نوجوان کسی مسئلے کی نشاندہی اور اُس کے حل کے تصور کو بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔اِس پروگرام کے تحت اب بہت سے نوجوان بچے اور بچیاں نہ صرف اپنے کاروبار کے مالک ہیں بلکہ دوسرے نوجوانوں کو بھی روزگار فراہم کر رہے ہیں۔ یہ انٹرپرنیور شپ پروگرام ایک انتہائی مفید پروگرام ہے جس کے زریعے ہم اپنے کم ترقی یافتہ یا پھر پسماندہ علاقوں کے وہ نوجوان جو کچھ کرنے کی لگن رکھتے ہیں یا پھر وہ اگرکسی کام کا ہنر یا آئیڈیا رکھتے ہیں مگر وسائل اور تربیت نہ ہونے کی وجہ سے کچھ کر نہیں سکتے، اُن کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ اس پروگرام کا سلوگن ” نئے خیال سے کمال کر” واقعی ہی نوجوانوں میں کمال کا سبب بن سکتا ہے۔ میری رائے کے مطابق ایسے پروگراموں کا آغاز پورے پاکستان میں ہونا چاہئے تاکہ نوجوان جو وسائل اور تربیت کے فقدان کی وجہ سے کچھ کر نہیں پاتے انہیں باعزت روزگار میسر آ سکے۔
آخر میں پھر خیبر پختونخواہ کے سینئرصوبائی وزیر برائے سیاحت و امورِ نوجوان محمد عاطف خان کا ذکر کرنا ضروری ہے جن کی خصوصی کاوشوں اور لگن سے نوجوانوں کے لیے ایک امید کی کرن جاگی ہے کہ اِس ملک کی کل آبادی کے چونسٹھ فیصد (64%) نوجوانوں کی اگر رہنمائی کی جائے تو وہ دنیا کا مقابلہ کرنے کو تیار ہیں۔
بلاشبہ محمد عاطف خان صاحب اس بات کو پورا کر رہے ہیں کہ:

زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی!

Originaly Posted Here at Urdupoint