سکول آف ایجوکیشن کا تعلیمی سفر

سکول آف ایجوکیشن کا تعلیمی سفر

لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ سائنسز (لمز)نے اپنے پانچویں سکول کا آغاز کیا جس کولمز سکول آف ایجوکیشن کا نام دیا گیا۔لمز سکول آف ایجوکیشن کے قیام میں ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر کے طور پر شامل ہونا میرے لئے ایک اعزاز کی بات ہے۔لمز سکول آف ایجوکیشن کا مقصد پاکستان میں تعلیم کے میدان میں تیزی سے تبدیل ہوتی صورتحال میں پالیسی سازی اور تربیت کے زریعے رہنمائی فراہم کرنا ہے۔اِس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے منصوبہ بندی کے طور پر مقامی ، علاقائی اور بین الاقوامی رابطوں کی ضرورت تھی۔ مقامی طور پرلمز میں مارچ 2016ء میں ایک گول میز کا انعقاد کیا گیا۔جس میں ماہرینِ تعلیم، پیشہ ور لوگ،پالیسی کے ماہرین نے شرکت کی اور پاکستان میں تعلیمی اصلاحات پر بات کی۔اسی طرح کی ایک اور گول میز کا انعقاد ہارورڈ یونیورسٹی میں مئی2016ء میں کیا گیا۔جس میں دنیا بھر کی اعلیٰ یونیورسٹیوں (ہارورڈ یونیورسٹی،سٹینفورڈ یونیورسٹی،ایم آئی ٹی،این وائی یو،یونیورسٹی آف پنسلوانیا،کولمبیا) کے نمائندوں نے شرکت کی۔اِن تمام یونیورسٹیز کے ممبران نئے قائم شدہ لمز سکول آف ایجوکیشن کے ماڈل پر تبادلہ خیال کرنے میں شامل ہوں گے۔یہ نیٹ ورک جولمز سکول آف ایجوکیشن قائم کرنے جا رہا ہے نہ صرف مضبوط قومی تقاضوں سے ہم آہنگ پالیسی بنائے گا بلکہ بین الاقوامی اداروں کو بھی قومی اداروں سے منسلک کرے گا۔مقامی سطح پر دسمبر 2016ء میں (آر آر ٹی) ریجنل راؤنڈ ٹیبل کا انعقاد لمز اور آغا خان یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ فارایجوکیشنل ڈیویلپمنٹ کے تعاون سے بھی کیا گیا۔

>لمز سکول آف ایجوکیشن درج ذیل اہم مقاصدکے لئے کام کرے گا۔

۔ ماسٹر ان ایجوکیشن پالیسی،لیڈرشپ اور مینجمنٹ کا آغاز

۔ لمز کے سٹوڈنٹس کے لئے بیچلر کی سطح کے کورسز کا آغاز

۔ ایک پیشہ ور تعلیمی ادارے کا آغاز جو پالیسی بنانے اوراُس کو عمل میں لانے کا کام کرے۔اور قومی ، نجی، نان پرافٹ اور اُن ڈونرز کو تربیت دے گا جو تعلیم کے میدان میں کام کر رہے ہیں۔

اسی سلسلے میں مجھے گزشتہ دنوں امریکہ ، برطانیہ اور دبئی میں لمز سکول آف ایجوکیشن کی نمائندگی کرنے کا موقع ملا۔ سب سے پہلے امریکہ میں ایک کانفرنس

Comparitive and International Education Society کے زیرِ اہتمام منعقد ہوئی۔یہ 61ویں سالانہ کانفرنس تھی۔اِس کانفرنس کا موضوع “تعلیم میں مساوات اور عدمِ مساوات کا ہونا اور اسی طرح کے مختلف موضوعات تھے جو کہ پانچ دن تک زیرِبحث رہے۔میری پریزنٹیشن ساؤتھ ایشیاء سپیشل انٹرسٹ گروپ( SIG) میں تھی اِسی سیشن میں ڈاکٹر طاہر اندرابی صاحب ( Executive Director Lums School of Education) اورڈاکٹر ڈینا برڈی (Dana Burde) (نیویارک یونیورسٹی) کی بھی پریزنٹیشن تھی۔

اِس اجلاس کی تفصیل درج ذیل ہے۔

ترقی پذیر دنیا میں معیاری تعلیم کی اہمیت ڈرامائی طور پر بڑھ رہی ہے۔مگر افسوس کی بات ہے کہ ہر سال ہماری افرادی قوت میں غیر ہنرمند اور غیر مستند افراد علمی معیشت اور معاشرے کا حصہ بن رہے ہیں۔پاکستان میں قائم کئے گئے لمز سکول آف ایجوکیشن کا مقصد آج کے تقاضوں کے مطابق مستقبل کے سکولوں کو تیار کرنا ہے۔اِس کانفرنس میں یہ بات زیرِبحث لائی گئی کہ کس طرح ایک سکول کو تصور اور عمل میں لایا جائے جو کہ تعلیم اور تحقیق میں بین الاقوامی معیار کی پریکٹس کرے۔اور اِس بات کو عمل میں لاتے ہوئے ترقی پذیر ممالک اور ساؤتھ ایشیاء کے حالات کو بھی پیشِ نظر رکھا جائے۔اِس سیشن میں نہ صرف مقرریں نے اپنا اظہارِ خیال کیا بلکہ سامعین میں موجود مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی اپنی آراء اور ردِعمل دینے کا موقع دیا گیا۔یہ ایک جدید طرز کا سکول ہے جس میں ماہرینِ تعلیم کو سکول کے آغاز سے ہی منصوبہ بندی میں شامل کیا گیا ہے۔

پہلے پینلسٹ ڈاکٹر طاہر اندرابی صاحب نے پاکستان میں تبدیل ہوتے ہوئے تعلیمی سیاق و سباق پر بنیادی اور ثانوی اعدادوشمار بتائے۔انہوں نے پاکستان میں خواتین کی مردوں سے زیادہ تعلیم میں دلچسپی اور اعلیٰ تعلیم میں خواتین کی کامیابیوں کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے نجی یونیورسٹیز میں خواتین کی کثیر تعداد میں داخلے اور دیہاتوں میں کم قیمت سکولوں کے اعدادو شمار کا بھی ذکر کیا۔اور یہ بات سوچی گئی کہ کس طرح پالیسی سازوں اور پیشہ ور لوگوں کے تعاون سے بہتر تعلیمی نمونہ بنایا جا سکتا ہے۔اِس سب بحث و مباحثہ کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیاکہ کس طرح لوگوں کو تربیت یافتہ بنایا جائے ۔مثلاضلعی سطح پر لوگوں کو تربیت دی جائے۔سکولوں کی انتظامیہ کوتربیت دی جائے اورنیشنل ٹیسٹنگ سروس کے ادارے کے لوگوں کو تربیت دے کرجدید تقاضوں کے مطابق آراستہ کیا جائے۔

دوسری پینلسٹ میں تھی اور میں نے علاقے کے دیگر سکولز آف ایجوکیشن کا موازنہ اور تقابلی جائزہ لیا خاص طور پر بنگلور کی عظیم پریم جی یونیورسٹی کے بارے میں بات کی۔اور اِس بات کی کوشش کی گئی کہ کس طرح ہم اپنے شرکا کی آرا کے پیشِ نظر لمزسکول آف ایجوکیشن کو زیادہ کامیاب اور موئثر بنا سکتے ہیں۔ خاص طور پر اِس بات پر زور دیا گیا کہ لمز سکول آف ایجوکیشن کے طالبِ علم صرف یہاں سے ڈگری حا صل نہ کریں بلکہ میڈیکل طالبِعلموں کی ہاؤس جاب کی طرح کا ایک پروگرام شروع کیا جائے جو طالبِ علموں کو عملی میدان میں جانے سے پہلے عملی ٹریننگ مہیا کرے۔

کا نام دیا جارہا ہے (Residency Program)  اِس پروگرام کو ریزیڈنسی

اِس پروگرام کے تحت طلباء لمز سکول آف ایجوکیشن کے شراکت دار اداروں میں جا کر عملی تربیت حاصل کریں گے۔ اِس عمل سے گزرنے کے بعد یہی طلباء جب نوکریوں میں جائیں گے تو یہ بہت زیادہ بہتر انداز میں اپنا کام انجام دے سکیں گے۔دنیا بھر میں اِس طرح کے عمل سے گزار کر طالبِ علموں کو تعلیم کے عملی میدان میں لایا جاتا ہے ۔ اِس پروگرام کو فیلڈ انگیجمنٹ پروگرام  بھی کہا جاتا ہے

تیسری پینلسٹ ڈاکٹرڈینا برڈی نےاُن علاقوں میں تعلیم کی فراہمی پر بات کی جو کہ بحران اور تنازع کا شکار ہیں۔ڈاکٹر ڈینا برڈی نے بین الاقوامی کردار کے بارے میں بھی بات کی کہ کس طرح لمز سکول آف ایجوکیشن دنیا بھر کی ترقی یافتہ یونیورسٹیز سے فائدہ اٹھا سکتاہے اور اُن کا تجربے کو اپنے علاقائی حالات کے مطابق عمل میں لایا جا سکتاہے۔ ڈاکٹر ڈینا برڈی جو ایک معروف سکول آف ایجوکیشن میں پروفیسر ہیں نے مزید کہا کہ چونکہ لمز سکول آف ایجوکیشن کا ایک نام ہے تو دنیا بھر کی یونیورسٹیز اِس سکول کے ساتھ کام کرنا چاہیں گی

یہ پانچ دن انتہائی مصروفیت کے دن تھے جن میں دینا بھر سے آئے ہوے لوگوں سے تبادلہ خیال کا موقع ملا اور مفید معلومات ملیں۔یہاں سے اگلی منزل انگلستان تھی

     کی تقریب کاانعقاد ہونا تھا۔ Research on Improving System of Education – (RISE )  جہاں

اِس تنظیم کا مقصد ترقی پذیر ممالک میں معیاری تعلیم کو مہیا کرنے میں مدد کرنا ہے۔ اِس تنظیم کی کانفرنس   میں شرکت کے بعد اب اگلی منزل دبئی تھی۔

  -کی تقریب ہونی تھی ( Global Education and Skills Forum )  جہاں گلوبل ایجوکیشن اینڈ سکلز فورم

 نے منعقد کروائی تھی۔ ( Varkey Foundation) یہ تقریب ” وارکی فاونڈیشن”

اِس تقریب کی خاص بات گلوبل ٹیچر پرائز تھا جو کہ ہر سال دیا جاتا ہے۔ اور اِس سال کی خاص بات یہ تھی کہ اِس دفعہ پہلے دس منتخب لوگوں میں ایک خاتون ٹیچر پاکستان سے بھی منتخب کی گئیں اور اِن خاتون ٹیچر کا تعلق گلگت بلتستان سے تھا۔ یہ بات میرے لئے انتہائی خوشی کی تھی کہ اتنے نا مسائد حالات کے باوجود پاکستانی خواتین ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔

یہ تعلیمی سفر خوبصورت یادوں کے ساتھ ساتھ معلومات افزاء اور مختلف ممالک کے مختلف تجربہ رکھنے والوں سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے اِس امید سے اختتام پذیر ہوا۔ کہ خدا کرے ہمارا وطن بھی دنیا کی ترقی یافتہ اقوام میں تعلیم کے میدان میں اپنا مقام حاصل کرے گا۔

بقول احمد ندیم قاسمی:

خدا کرے کہ میری ارضِ پاک پر اُترے

وہ فصلِ گل جسے اندیشہٗ زوال نہ ہو