ووکیشنل ایجوکیشن / پیشہ ورانہ تعلیم

ووکیشنل ایجوکیشن / پیشہ ورانہ تعلیم

دنیا میں معیشت بہت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور دنیا میں وہی قومیں ترقی کی منازل طے کر رہی ہیں جو اپنی معیشت کو تعلیم کی بنیاد پر استوار کر رہی ہیں۔ بدلتی ہوئی اِس دنیا میں ہر فرد کے لئے اب یہ ضروری ہوگیا ہے کہ وہ کسی بھی میدان میں کام کی خصوصی مہارت حاصل کرے۔خصوصی مہارت کے حامل افراد ہی اب اچھی نوکریاں حاصل کر سکیں گے۔و وکیشنل ایجوکیشن /پیشہ ورانہ تعلیم دینے والے ادارے ہی کسی فرد کو خصوصی تعلیم مہیا کرسکتے ہیں اور انہیں معاشرے کا کارآمد اور خودمختار فرد بنا سکتے ہیں۔

ووکیشنل ایجوکیشن /پیشہ ورانہ تعلیم کا مطلب کسی فرد یا افراد کو کسی خاص کام میں تعلیم کے ذریعے ماہر بناناہے ۔ یہ مہارت زیادہ ترتجارت، کاریگری،تکنیک کار، ماہرِفنیات، انجنیئرنگ،فنِ حساب /اکاوئنٹنگ،نرسنگ،طب، فنِ تعمیر اور قانون میں ہو سکتی ہے۔اسی طرح اِن سب پیشوں میں سے مزید درجہ بندی کی جا سکتی ہے اور خصوصی مہارت کے مزید مضا مین متعارف کروائے جا سکتے ہیں۔جیسا کہ صحت کے شعبے میں مساج تھراپی،غذا کے ماہرین اور اسی طرح کے اور بھی مضامین شامل کئے جا سکتے ہیں۔ اِس طریقے سے کوئی بھی فرد اپنی خواہش اور دلچسپی کو مدِنظر رکھتے ہوئے اپنے لئے شعبے کا انتخاب کرسکتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ آج ووکیشنل ایجوکیشن /پیشہ ورانہ تعلیم کی اہمیت کیوں بڑھ گئی ہے اِس سلسلے میں اگر ہم اعدادوشمار کو دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ 1950ء میں 80فیصد نوکریاں غیر ہنرمند افراد کے پاس تھیں جبکہ آج کل 85فیصد نوکریاں ہنرمند لوگوں کے پاس ہیں۔اس بہت بڑی تبدیلی کی وجہ سے آج وکیشنل ایجوکیشن /پیشہ ورانہ تعلیم کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔

پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی سماجی و اقتصادی انقلاب برپا ہونے کو ہے۔ نوکریوں اور صنعتوں میں کام کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے اور اسی طرح بہتر معیار کے لئے ہنر مند ہونا لازم ہو گیا ہے۔اگر پاکستان کو دیکھا جا ئے تو ایک کثیر آبادی والا ملک ہے اور اِس کی زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشمل ہے اسی لیے ہمیں اِس شعبہ میں خصوصی توجہ کی ضرورت ہے ابھی تک کی صورتحال کے مطابق

پاکستان میں کل 3581 پیشہ ورانہ تعلیم کے ادارے TVET (Technical Vocational Education and Training)کے نام سے پورے پاکستان میں کام کر رہے ہیں۔ اِن میں سے 1177 سرکاری اور 2404 غیر سرکاری ادارے ہیں۔ مزید تفصیل میں جا کر دیکھا جائے تو پنجاب میں کل 1817، سندھ میں 585 ،کے پی کے میں 599، بلوچستان میں125،گلگت بلتستان میں 175،آزاد کشمیر میں 114، فاٹا میں61 اور وفاقی دارالحکومت میں کل 103ادارے کام کر رہے ہیں۔پاکستان میں یہ طرزِ تعلیم عمومی طور پر سیکنڈری سطح سے متعارف کروایا جاتا ہے۔

یہ دور گلوبلائزیشن کا دور ہے اور اس دور کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو ہنر مند بنائیں تاکہ ہم دنیا میں کم قیمت کے ساتھ ساتھ معیار ی اشیاء کو بھی پوری دنیا میں متعارف کرواسکیں۔مقابلے کے اس دور میں کم قیمت ، اعلیٰ معیار،نئی اشیاء کو متعارف کروانے ، معیاری خدمات دینے کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ بیسویں صدی تک پیشہ ورانہ تعلیم بہت ہی محدود سمجھی جا تی تھی اور زیادہ تر آٹو موبائل ، ویلڈر اور الیکٹریشن کی تعلیم کو ہی پیشہ ورانہ تعلیم سمجھا جاتا تھامگر ایکسویں صدی کے شروع سے ہی دنیا میں ٹیکنالوجی میں جدت نے نئے شعبوں کو جنم دیاہے جس سے صنعت میں ووکیشنل ایجوکیشن /پیشہ ورانہ تعلیم کی اہمیت بہت زیادہ ہو گئی ہے۔اسی لئے حکومتوں اور غیر سرکاری لوگوں نے ادارے بنانے شروع کئے۔زیادہ تر ادارے عوامی فنڈ اور غیر سرکاری اداروں نے بنائے اور اپرنٹس شپ کے زریعے لوگوں کو ہنر مند بنانے کا آغاز کیاگیا۔آج وکیشنل ایجوکیشن /پیشہ ورانہ تعلیم ایک بہت ہی تبدیل شدہ شکل اختیار کر چکی ہے۔یہ تعلیم ہمیں پرچون (ریٹیل) ،سیاحت ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کاسمیٹک، روایتی دستکاری اور گھریلو صنعتکاری غرض کہ ہر شعبہ زندگی میں نظر آتی ہے۔

اِس ساری بحث سے ہمیں وکیشنل ایجوکیشن /پیشہ ورانہ تعلیم کی اہمیت کا اندازہ ہو جانا چاہئے ۔ سب والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ اُن کے بچے وائٹ کالر نوکری کریں اور بلیو کالر نوکری کو اچھا نہیں سمجھا جاتااور یہ سوچ ہمارے معاشرے کے لئے انتہائی تباہ کن ہے خاص طور پر ایکسویں صدی میں یہ خیال ہماری نسلوں کے لئے نقصان دہ ہے۔والدین کو اپنے بچوں کے اندر یہ شعور پیدا کرنا چاہئے کہ وہ اپنے پسند کا جو بھی ہنر حاصل کرنا چاھتے ہیں وہ اس کی حوصلہ افزائی کریں گے۔اِس میں کسی بھی قسم کی کوئی قباحت نہیں ہونی چاہئے۔ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے لوگوں کو ہنرمند بنائیں اور ہمارے لوگ بجائے نوکریوں کو تلاش کرنے کے اپنا کام کرنے کو ترجیح دیں اِس طرح ہم اپنے ملک میں سمال انڈسٹری یا کاٹیج انڈسٹری کو فروغ دے سکیں گے۔ہم لوگوں کوہنرمند بنا کر ایگریکلچر اور مائنگ جیسے شعبوں میں روزگار مہیا کرسکتے ہیں۔

دنیا میں کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جنہوں نے ووکیشنل ایجوکیشن /پیشہ ورانہ تعلیم کو اپنے سکولوں اور کالجز میں لازمی قرار دیا ہے۔اور وہ اِس بات کی اہمیت کو سمجھتے ہیں کہ ووکیشنل ایجوکیشن /پیشہ ورانہ تعلیم اُن کے بچوں کے مستقبل کے لئے کتنی اہم ہے۔یہی وہ طریقہ ہے جس کے زریعے کوئی قوم عالمی منڈی میں اپنا مقام بنا سکتی ہے۔

خوشی کی بات ہے کہ کچھ اداروں نے اِس سلسلے میں خود عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے معاشرے کے غریب طبقہ سے بچوں کو ٹیکنیکل ایجوکیشن دے کر اُن کے لئے نوکریوں کا بھی اہتمام کیا ہے۔ یہ عمل بہت حوصلہ افزا ء ہے اور حکومتوں کو بھی اسی طرح کے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم ایک مضبوط سماجی اور اقتصادی معاشرہ قائم کریں تو ہمیں اپنے بچوں اور نوجوانوں کو ہنر مند بنانا ہو گا۔خاص طور پر یہ چیز ہمارے لئے اور بھی اہم ہو جاتی ہے جب کہ ہم چائینہ کے ساتھ مل کر CPEC بنانے جا رہے ہیں۔ یہی وہ وقت ہے جب ہمارے ملک میں لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا ہونے والے ہیں اور اگر ہم نے اپنے جوانوں کو ہنر مند نہ بنایا تو پھر یہ جگہ غیر لوگ آکر پوری کریں گے اور فائدہ دوسرے لوگ اٹھا ئیں گے۔حکومت کو چاہئے وقت کی نزاقت کو سمجھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ ادارے بنائے اور اپنے نوجوانوں کوآنے والے وقت کے لئے تیار کرے۔اب معاشرے کو تبدیل ہونے کی ضرورت ہے اور نئی اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔

تربیتی کمپنیوں کی اہمیت اِس دور میں بہت بڑھ گئی ہے۔تاکہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ہنر مند بنایا جا سکے اور آنے والے مسائل اور مشکلات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ان اہم باتوں سے ہٹ کر جو کہ اُوپر بیان کی گئی ہیں پیشہ ورانہ تعلیم کے کچھ اہم فوائد درج ذیل ہیں۔

۔ ووکیشنل ایجوکیشن /پیشہ ورانہ تعلیم کسی بھی صورت میں آپ کا وقت، پیسہ اور طاقت بچا سکتی ہے۔

۔ پیشہ ورانہ تعلیم کا حامل شخص اپنا کام کر سکتا ہے یا پھر جز وقتی نوکری بھی کر سکتا ہے۔

۔ پیشہ ورانہ تعلیم کسی بھی شخص کی تکنیکی صلاحیتوں میں اضافے کا باعث ہوتی ہے۔

۔ پیشہ ورانہ تعلیم موجودہ دور کی صنعت کی ضروریات کو پورا کرتی ہے۔

۔ پیشہ ورانہ تعلیم میں انسان سیکھنے اور کمانے کا عمل ہمہ وقت جاری رکھ سکتا ہے۔

۔ پیشہ ورانہ تعلیم کسی بھی انسان کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

 

!بقول علامہ اقبال

فطرت کی غلامی سے کر آزاد ہنر کو         صیاد ہیں مردانِ ہنرمندکہ نخچیر

     سے حاصل کئے گئے ہیں۔  (NAVTTAC) اداروں کے اعدادوشمار سرکاری سائٹ نیوٹیک