کوویڈ- 19 کے بارے میں حقائق

تعارف:
کورونا وائرس کی مختلف اقسام کو ہم  1960ء سے جانتے ہیں  لیکن اِس کی مختلف قسم حال ہی میں جانورں سے انسانوں میں منتقل ہوئی ہے جو کہ انفیکشن کے ذریعے نظامِ تنفس کی  بیماری  اور طبیعت کی  ناسازی پیدا کرتا ہے ۔  جس کے ذریعے  پیدا ہونے والی بیماری  نے  ایک عالمی وبائی مرض کی صورت اختیار کر لی  ہے  جس  کی وجہ سے   دنیا عالمی معاشی کساد بازاری کا شکار ہو گئی ہے۔

اِس  وائرس کا مرض کوویڈ -19  کے نام سے موسوم ہے ۔   اس بیماری نے بڑے پیمانے پر صحت عامہ کو متاثر کیا  ہے اور پوری دنیا  میں روز بروز ہوتی ہوئی  ترقی کے سلسلے میں رکاوٹ پیدا کردی ہے اور دنیا میں نقل و حرکت ، تجارت اور باہمی رابطہ کو محدود کر دیا ہے۔ عالمی تنظیم کے سیکرٹری جنرل کے مطابق کوویڈ -19 نے ان بحرانوں کی یاد دلا دی  ہے جو جنگ دوئم کے دوران پیش آئے تھے۔

عالمی سطح پر سولہ لاکھ افراد اس ناگہانی آفت  سے متاثر ہوئےتھے  اور اس کی وجہ سے دنیا بھر میں پچھتر ہزار افراد کی موت واقع ہوئی تھی۔
کووڈ-19کی  کہانی:
کووڈ- 19 کی  اصلیت کا علم  چین کے ایک  قصبےوہان  میں 2019 ءکے آخری مہینے میں ہوا جب  طبی ماہرین نے اعلان کیا کہ یہ  وائرس بیماری   جانوروں سے انسانوں میں منتقل کردی گئی ہے۔

اپنی ابتداء سے لیکر آج تک  دنیا کے مختلف ممالک اِس بیماری کا شکار  ہو چکے ہیں۔ اس وقت کرہ ارض کے دو سو اکیس ممالک   کو اس  بیماری نے بہت بری طرح متاثر کیا  ہے  ۔  بالکل نیا وائرس ہونے کی وجہ سے  اس سے لاحق   بیماری کو ختم کرنے کیلئے  دنیا بھر میں تحقیق جاری ہے اور دنیا میں کچھ اداروں نے  مخصوص حفاظتی ٹیکوں کو متعارف کروا دیا ہے۔

اِس بیماری کی وجہ سے دنیا بھر میں پچھلے سال سے  کورونا وائرس کو جاننے کی متعدد کوششیں ہو رہی ہیں۔  دنیا میں کئی جگہوں پر یہ بھی خبریں سنائی دے رہی ہیں کہ یہ وائرس اپنی ساخت اور شکل کو مسلسل تبدیل کر رہا ہے۔ پیش کردہ معلومات کی زیادتی کی فراہمی کے باوجود  حال ہی  میں تبدیل شدہ کورونا وائرس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل نہیں کی  جاسکیں۔

اس مضمون کے دوران ہم آپ کو وائرس سے متعلق کچھ نامعلوم باتوں اور حقائق سے آگاہ  کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
کورونا وائرس سے متعلق مشہور حقائق:
حال ہی میں یہ خاموش وائرس چین کے  علاقے وہان  میں ابتدائی طور پر دیکھا گیا تھا ۔   شروع میں یہ خیال کیا جارہا تھا کہ لوگوں میں یہ وائرس  مچھلیوں یاجانوروں کی تھوک کی تجارت کے باعث  دوسرے لوگوں تک پھیلا ہے۔

مگر بعد کی تحقیق سے پتا چلا  کہ یہ انسانوں سے دوسرے انسانوں کو ہوا  کے زریعے  اور چھونے سے منتقل  ہو رہا ہے۔ کورونا وائرس سائنسی طور پر SARS-CoV-2 کے نام سے جانا جاتا ہے۔ چونکہ یہ بیماری سال 2019 کے اندر ہی دریافت ہوئی تھی  اِس لیے  عالمی ادارہ صحت نے اسے کوویڈ -19 کے نام سے نامزد کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی نے اس کوویڈ -19 کو ایک وبائی مرض کے طور پر تسلیم کیا ہے۔

یہ وائرس ،  وائرسز کےاُس خاندان سے ہے جس کی وجہ سے سردی سے شروع ہونے والی  بیماری شدید بیماری کی صورت اختیار کر جاتی ہے۔ وائرسوں کے اس خاندان کی وجہ سے ہونے والی متعدد شدید بیماریوں میں 2003 ء میں پھیلنے والی بیماری سارس   (SARS) اور جغرافیائی علاقہ یعنی عرب ممالک میں پھیلنے والے مرض  مرس (MERS) شامل ہیں۔   وائرس کی منتقلی عام طور پر  متاثرہ شخص کے چھونے  یا چھینکنے سے  ہوتی ہے۔

آج کی تاریخ تک تقریباً پندرہ کروڑ افراد اِس سے متاثر ہو چکے ہیں اور تیس لاکھ سے زائد افراد کی اِس بیماری کی وجہ سے موت واقع ہو چکی ہے۔
اس متعدی  بیماری  کے اثرات بہت مہلک ہوتے ہیں۔
کسی متاثرہ شخص کی شروعات  بہت خاموشی سے اِس وائرس کے داخل ہونے سے ہوتی ہے  جس کے بظاہر کوئی اثرات دکھائی نہیں دیتے ۔  عموماً تین سے پانچ دن کے اندر اِس کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور  انفیکشن  پیدا ہوجاتی ہے۔

  کوویڈ ۔19 سے تعلق رکھنے والی علامات خشک کھانسی ، بخار ، پٹھوں میں درد ، نزلہ زکام ، سر درد ، تھکاوٹ ، اسہال ، یا گلے میں درد کی صورت میں ہوتی ہیں۔  کوویڈ -19 کے شکار  ہر دس میں سے آٹھ افراد صحت مند رہتے ہیں جنہیں  بہت زیادہ طبی مداخلت  کی ضرورت نہیں ہوتی ہے تاہم  متاثرہ افراد میں سے بیس فیصد مریضوں  میں سے کوئی بھی شخص شدید طور پر بیمار ہوسکتا ہے اور اسے فوری  طبی امداد کی ضرورت پڑ سکتی ہے کیونکہ اس سے سانس کی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔

عام لوگوں کو چاہئے کہ  معاشرتی دوری کے ذریعہ جس حد تک ممکن ہو آپس میں قریبی  رابطے سے گریز کریں ۔ باقاعدگی سے وقفے وقفے سے ہاتھوں کوصابن سے دھو کر صاف ستھرا رکھیں۔ ہاتھوں کو اچھی طرح دھوئیں ۔   باہر یا دفتر میں کام کرتے ہوئے ہاتھوں  سے   چہرے ، ناک اور آنکھوں کو چھونے سے گریز کریں۔   جس حد تک ممکن ہو اپنی نقل و حرکت محدود کردیں اور غیر ضروری میل جول سے اجتناب کریں ۔

خود بھی عمل کریں اور دوسروں کو بھی اِس کی ترغیب دیں ۔ ویکسین کے نتائج مزید پختہ ہونے  تک ہمیں احتیاط کا دامن نہیں چھوڑنا چا ہئے ۔ یہ احتیاط اُس وقت تک لازم ہے جب تک  کوویڈ -19   پر قابو نہیں پایا جا تا ۔ کورونا وائرس کی ویکسین صرف امریکہ ، چین اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں تیار کی جارہی ہیں تاہم یہ ممالک ابھی کلینیکل ٹرائلز سےگزر نے کے بعد آہستہ آہستہ مارکیٹ میں آ رہی ہے۔

 ایک کوویڈ -19 سے متاثرہ شخص اوسطاً 2  لوگوں کو وائرس منتقل کرنے کا باعث بن  سکتا ہے اور یہ تعداد اِسی طرح بڑھتی جاتی ہے جب تک کہ اِس کا تدارک نہ کر لیا جائے۔ بنیادی طور پر اقوام متحدہ کی ایجنسی کے حالیہ سروے کے مطابق  بزرگ افراد اوروہ  لوگ  جو کمزور مدافعتی نظام رکھتے ہیں اور پہلے سے موجود طبی بیماری کا شکار ہیں انہیں سنگین بیماری  کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق دل کے مسائل ، ذیابیطس ، ہائی  بلڈپریشر  ، یا سانس کے اعضاء کی انفیکشن والے لوگوں کو موجودہ وائرس کے لگنے  کی وجہ سے شدید بیماریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جب متاثرہ شخص کو چھینک آجاتی ہے یا کھانسی ہوتی ہے تواِس سے نکلنے والے قطروں میں یہ وائرس ہوتا ہے۔ہوا میں موجود چھینک  میں وائرس کے ذرات  سے تین گھنٹوں  تک موجود رہتے ہیں۔

اگرچہ چہرے کے ماسک  کوویڈ -19  ٹرانسمیشن سے 100٪ تحفظ کی ضمانت نہیں دیتے   لیکن بہتر یہ ہے کہ وائرس میں مبتلا افراد کا انہیں پہننا نہ پہننے  سے بہت  بہتر ہے۔  کیونکہ   اس طرح کھانسی یا چھینکنے والی بوندوں کے  پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔ صحت مند لوگوں کو  بھی احتیاط کے طور پر ماسک پہننا چاہئے اگرچہ کوویڈ -19  انفیکشن کے دوبارہ لاحق ہونے  کے بارے میں یقینی طور پر کوئی معلومات میسر  نہیں ہیں لیکن پھر بھی  ایسے واقعات موجود ہیں جب یہ سنا گیا کہ وہ افراد جو اِس بیماری سے ٹھیک ہو چکے ہیں انہیں دوبارہ ہونے کا خدشہ ہے۔

مثال کے طور پر  ایک جاپانی لڑکی جب اپنی بیماری سے ٹھیک ہوگئی تو اسے دوبارہ انفیکشن ہونے کی اطلاع ملی۔ کچھ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ کوویڈ -19  انفیکشن گرمیوں کے  موسم میں کم ہوجاتا ہے  اور اِس پر تحقیق بھی کی جا رہی ہے مگر ابھی تک اِس کے بارے میں کوئی مصدقہ رائے نہیں ہے۔ مگر کچھ تحقیق کار اِس بات کو مانتے ہیں کہ چونکہ گرم موسم میں منہ سے نکلنے والے زرات جلد خشک ہو جاتے ہیں  جبکہ سردیوں میں یہ زرات زیادہ دیر تک ہوا میں موجو  رہتے ہیں  اور لوگ بھی ایک دوسرے کے قریب آجاتے ہیں اِس لیے سردیوں میں اِس کے پھیلاو کے امکانا ت گرمیوں کی نسبت زیادہ ہوتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایجنسی نے یہ واضح طور پر کہا ہے  کہ اس وائرس  کا پھیلاو آب و ہوا پر منحصر نہیں ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ کرونا وائرس  کوویڈ -19        انفیکشن  کا پھیلاؤکم ہونے جارہا ہے اور زمین پر  زندگی آہستہ آہستہ  معمول پر آ جائے گی۔
آج اِس وائرس کی مختلف قسم کی ویکسین مارکیٹ میں آرہی ہیں اور اس کا استعمال مختلف ممالک میں جاری ہے۔

اِس کے کم از کم دوٹیکے ہوتے ہیں جو ایک ماہ کے وقفہ سے لگائے جاتے ہیں۔ یہ ویکسین بیماری سے تحفظ تو فراہم کرتی ہے مگر اِس بارے میں حتمی طور پر کہا نہیں جا سکتا کہ یہ انفیکشن کو بھی روکتی ہے اِس لیے ویکسین لگوانے کے با وجود حفاظتی تدابیر پر عمل کرنا ضروری ہے۔  دنیا میں کئی مرتبہ ایسی خوفناک وبائی امراض کی تاریخ ملتی ہے مثلاً 1918ء میں انفلوئنزا کے باعث چھ سے بارہ کروڑ افراد لقمہ اجل بن گئے۔

آج حالات اِس سے بہت مختلف ہیں۔ مگر وہ وبائی مرض دو تین برس بعد خود بخود قابو میں آگیا تھا اور لوگ نارمل زندگی گزارنا شروع ہو گئے تھے۔ امید تو یہی ہے کہ ایک دو سال میں اِس کی شدت میں کمی آجائے گی اور دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو جائے گی۔ اس وقت معیشت کا پہیہ بہت تیز چلنے کا امکان ہے اور اگر ہم نے مناسب منصوبہ بندی کی تو قومی سطح پر ہماری ترقی کی صورت نکل سکتی ہے۔

اِس وباء کے دوران بہت تحقیق کی گئی ہے اور دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ طویل فاصلہ سے دئیے گئے لیکچر اور میٹنگوں کا کلچر معرضِ وجود میں آگیا ہے۔ لوگوں نے نظم و ضبط کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہےاور تعلیم کے نظام میں بھی مثبت تبدیلیوں کی توقع کی جا رہی ہے۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ لوگ نئے انداز سے جینا سیکھ لیں اور عملی طور پر سر گرم رہیں۔

 

30 سالہ تعلیمی منصوبہ کی ضرورت
30 سالہ تعلیمی منصوبہ کی ضرورت

پاکستان کو معرضِ وجود میں آئے 69برس بیت چکے ہیں اور ہم آج تک زندگی کے کسی بھی شعبے میں درست سمت کا . . .

تحلیقی تعلیم  کی اہمیت
تحلیقی تعلیم کی اہمیت

دنیا بہت تیزی سے تبدیلی کے مراحل سے گزر رہی ہے اور اِس تبدیل ہوتی ہوئی دنیا میں ہمارا نظامِ تعلیم . . .

سندھ میں تعلیم
سندھ میں تعلیم

صوبہ سندھ معیشت کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے اہم صوبہ سمجھا جاتا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے یہ پاکستان کا . . .