Child Abuse Issue

Child Abuse Issue

“بچوں پر تشدد”

ہم جب بھی بچوں پر تشدد کا سنتے ہیں تو ہمارے ذہن میں تین طرح کا ’بچوں پر تشدد‘ کا خیال آتا ہے۔جن کو ہم ذہنی ‘جسمانی‘جنسی یا پھر تینوں کا مجموعہ بھی کہ سکتے ہیں۔اِس کے علاوہ بھی ایک اور قسم کا تشدد ہوتا ہے جسے ہم تشدد شمار ہی نہیں کرتے اور وہ ہے’ اخلاقی تشدد‘ اِس قسم کے تشدد میں ایسی باتیں آتی ہیں جن پر بڑے خود تو عمل نہ کرتے ہوں مگر بچوں سے زبردستی عمل کروانے کی کوشش کریں۔ایسے تشدد کو اخلاقی تشدد کی ایک قسم کہا جا سکتاہے۔

اگر اِن تمام اقسام کے تشدد کا احاطہ کیا جائے تو یہ دیکھا گیا ہے کہ یہ تمام اقسام ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں اور ہم بحیثیت قوم اِس موضوع پر توجہ دینے سے قاصر ہیں۔ بچوں کی پہلی درس گاہ ماں کو کہا جاتا ہے اور یقینناً ابتدائی طور پر یہ ذمہ داری بھی ماں اور باپ دونوں کے کندھوں پر آتی ہے کہ وہ خود بھی ان باتوں سے بچیں جو بچوں کی ذہنی ‘ جسمانی اور اخلاقی تباہی کا باعث بنیں اور بچوں کو معاشرے کی اِن خرابیوں سے نبردآزما ہونے کے لیے ذہنی طور پر تیار کریں۔
دوسرے درجے پر سکولوں کا کردار آتا ہے گھر سے نکلنے کے بعد بچے سکولوں یعنی دوسری تربیت گاہ کا رخ کرتے ہیں۔اِس تربیت گاہ کا کردار کسی بھی شخصیت کو بنانے یابگاڑنے میں بہت اہم ہوتا ہے۔یہیں سے بچے اپنی نصابی واخلاقی تربیت حاصل کرنے کے بعد معاشرے کے ذمہ دار افراد کے طور پر اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ سوچنے کی حد تک یہ بات بہت دلنشیں معلوم ہوتی ہے کہ معاشرہ میں ہر فرد ہر ادارہ اپنی ذمہ داری ادا کر رہا ہومگر یہ خیال کس حد تک قابلِ عمل ہے یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔

سکول یا دیگر درس گاہیں جو کہ بچوں کو ابتدائی تعلیم مہیا کرتی ہیں یہ انہی کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کی تعلیم و تربیت کا خیال رکھیں۔ کم و بیش سرکاری اور غیر سرکاری سکولوں میں صورتحال ایک جیسی ہے کیونکہ سکولوں میں بچے درج بالا میں سے کسی ایک قسم کے تشدد کا شکار ہو رہے ہوتے ہیں۔بچے بالکل ایک کونپل کی مانند ہوتے ہیں اور ایک خوبصورت پھول بننے تک کے عمل میں نہایت احتیاط اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔حکومتوں اور اداروں کو چاہئے کہ خاص کر ابتدائی جماعتوں کو تعلیم دینے کے لیے ماہر اساتذہ کو تعینات کیا جائے اور صرف ان اساتذہ کے ہاتھ میں ان بچوں کی تعلیم و تربیت دی جائے جو خصو صی تعلیم و تربیت کی مہارت رکھتے ہوں۔
یہ بات اکثر دیکھنے میں آئی ہے کہ جو بچے کسی نہ کسی طرح کے تشدد کا شکار ہوتے ہیں وہی بڑے ہو کر دوسروں سے برا برتاؤ کرتے ہیں اور اپنے اوپر ہونے والی بدسلوکی کا بدلہ دوسروں پر ظلم کر کے اتارتے ہیں اسی طرح کے افراد مستقبل میں پُر تشدد جرائم کی وجہ بنتے ہیں۔ تشدد کا شکار ہونے والوں میں درج ذیل اثرات مشترک دیکھے جا سکتے ہیں۔
خود اعتمادی کی کمی
حوصلہ کی کمی
جھگڑالو اور مخالفت پسند
غصیلے اور ناراض
منشیات کا شکار
بے مقصد
ان سب باتوں کو نظر میں رکھتے ہوئے ۔ یہاں ہم چند تجاویز کو عمل میں لا کر اِن خطرات کو کم سے کم کر کے اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

۔ اپنے بچوں کے رویوں کو بہت قریب سے دیکھیں اور نظر رکھیں ۔ رویہ میں جھنجھلاہٹ اور بے چینی کی صورت میں بات کی تہ تک پہنچنے کی کوشش کریں۔
۔ جس حد تک ممکن ہو بچوں کو مار پیٹ سے دور رکھا جائے اور کوشش کی جائے کہ بچوں کو سمجھانے کے عمل کے ذریعے تربیت کی جائے۔
۔ بچوں کی حوصلہ شکنی کی بجائے حوصلہ افزائی کی جائے۔
۔ بچوں کو اِس حد تک اعتماد دینا چاہئے کہ وہ کوئی بھی بات ماں باپ سے کہنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔
۔ والدین اور اساتذہ کو چاہئے کہ عمل کے ذریعے بچوں کے لیے قابلِ مثال بنیں ۔
۔ دوسروں کی مدد کے جذبے کو ابھارنا چاہے۔
۔ کم نصیبی اور خرابی کا اِلزام بچوں پر دھرنے کی بجائے صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے اور ماہر لوگوں سے رائے لینی چاہئے۔
۔ بچوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف لانے کے لیے ان کی پسندیدہ کاموں میں ان کا ساتھ دیں۔

اساتذہ اور والدین آپس میں رابطہ رکھ کر بچے کی تعلیم‘ صحت اور تحفظ کو یقینی بنا سکتے ہیں۔

بقول علامہ اقبال!
جس کی شاخیں ہوں ہماری آبیاری سے بلند کون کرسکتا ہے اُس نخلِ کہن کو سرنگوں

روزنامہ خبریں میں اہم موضوع “بچوں پر تشدد” پرشائع ہونے والا کالم
http://epaper.dailykhabrain.com.pk/popup.php?newssrc=issues/2017-01-25/23390/3.jpg