تعلیمی صفر بھکر

لمز سکول آف ایجوکیشن کے قیام کے بعد بین الاقوامی اور مقامی طور پر رابطوں کے ساتھ ساتھ ذمینی حقائق جاننے کے لیے عملی طور پر پسماندہ علاقوں میں کام کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ اِس سلسلے میں لمز سکول آف ایجوکیشن نے پنجاب کے کم ترقی یافتہ ضلع بھکر کے دو دِن کے دورے کا پروگرام بنایا۔

یہ دورہ  (PEP)  Partnership and Engagement Program  کے پروگرام کا حصہ تھا۔ یہ پروگرام لمز سکول آف ایجوکیشن کا بنیادی جزو ہے۔پارٹنرشپ اینڈ اینگیجمنٹ پروگرام ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرے گا جس کے تحت لمز سکول آف ایجوکیشن مقامی اور بین الاقوامی طور پر پارٹنر تنظیموں اور اداروں سے روابط قائم کرے گااور یہ باہمی اشتراق لمز کے طالبِ علموں کو تحقیق اور انٹرنشپ کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔
اِس دورے کا مقصد ضلعی طور پر تعلیم کے مسائل کو جانتے ہوئے تعلیم سے متعلق مقامی لوگوں کی رائے کے پیشِ نظر اقدامات کرنا اور مقامی تعلیمی شراکت داروں کے تعاون سے تعلیم کی بہتری کے لیے آپس میں مفاہمت پیدا کرناہے۔اِس پروگرام کے تحت نہ صرف پسماندہ علاقوں میں تعلیم کی صورتحال کو بہتر کرنے میں کردار ادا کرنا ہے بلکہ ایک ایسا نظام بھی تشکیل دینا ہے جو مستقبل میں دوسرے ضلعوں میں بھی عمل میں لایا جا سکے۔اِس مقصد کے حصول کے لیے مقامی طور پر مختلف لوگوں سے ملاقاتوں کا موقع ملااور مختلف علاقوں کی حالت دیکھنے کا اتفاق ہوا۔اِن ملاقاتوں میں مقامی سیاسی، انتظامی اور تعلیمی شخصیات شامل تھیں۔ بھکر کے  صحرا تھل کے علاقے ماہنی کا دورہ کرتے ہوئے ایم پی اے غضنفر عباس چینہ، اسسٹنٹ کمشنر علی بٹراور سی ای او ایجوکیشن مسعود صاحب بھی ہمراہ تھے۔ماہنی بھکر کا انتہائی پسماندہ علاقہ ہے۔جس کی آبادی صحرا میں چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں پھیلی اور بکھری ہوئی ہے۔اِس آبادی کے لیے صحت اور تعلیم کی بنیادی ضروریات نہ ہونے کے برابر ہیں اور جو ہیں وہ انتہائی خستہ اور مخدوش حالت میں ہیں۔بنیادی سہولیات کی کمی کے ساتھ ساتھ تعلیم یافتہ عملہ بھی نا ہونے کے برابر ہے۔سکول آبادی سے اتنی دور ہیں کہ بچوں کو تین تین کلومیٹر تک پیدل چل کر سکول جانا پڑتا ہے۔کئی ایسے علاقے بھی ہیں جہاں لڑکیوں کے سکول ہیں ہی نہیں۔جو سکول ہیں بھی اُن کی حالت انتہائی خستہ ہے اور کئی سکولوں کی دیواریں بھی ٹوٹی ہوئی ہیں۔صحت کے مراکز میں ڈاکٹر اور لیڈی ہیلتھ ورکرز موجود نہیں ہیں۔ایک جگہ تو یہ دیکھا گیا کہ بنیادی صحت کے مرکز کی دیواریں تو ٹوٹی ہوئی تھیں مگر جانوروں کے ہسپتال کی دیواریں موجود تھیں۔بھکر ضلع کی رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑی تحصیل کا نام مانکیرا ہے مگر بنیادی ضروریات اور تعلیم کے لحاظ سے سب سے پسماندہ تحصیل ہے۔یہاں کی ڈپٹی ڈی ای او شہلا یاسمین سے تعلیم کے مسائل پر بڑی تفصیل سے بات ہوئی۔تعلیم کے دوسرے مسائل کے ساتھ انہوں نے اِس بات کی بھی نشاندہی کی کہ سکولوں کی انسپکشن کے لیے حکومت جو فنڈ مہیا کرتی ہے وہ انتہائی کم ہیں کیونکہ فاصلے بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ رقم ناکافی ہے۔اِس مسئلہ کی وجہ سے سکولوں کی نگرانی صحیح طرح نہیں ہو پا رہی۔

 

سی ای او ایجوکیشن مسعودندیم صاحب نے بتایا کہ ضلع کی سطح پر تعلیم کے پانچ شعبے ہیں جن میں وومن ایلیمنٹری، میل ایلیمنٹری، سیکنڈری ایجوکیشن، سپیشل ایجوکیشن اور لٹریسی اینڈ نان فارمل بیسک ایجوکیشن شامل ہیں۔ہم نے وومن ایلیمنٹری سکول،  گرلز پبلک سکول  اور بوائز پبلک سکول کا دورہ کیا اِس کے ساتھ ساتھ ہم نے ایک پرائیویٹ سکول ذبیدہ پبلک سکول کا بھی دورہ کیا۔جس کی فیس تیرہ سو روپے تھی اور اِس سکول کی ایک بچی نے پنجاب میں پوزیشن حاصل کی ہے۔اِس سکول کی ایک خاص بات یہ تھی کہ یہاں سب سے تجربہ کار ٹیچر جونئیر کلاسز میں بچوں کو پڑھاتی ہیں اور چالیس بچوں کی جماعت میں دو ٹیچرز کو پڑھانے پر لگایا گیا ہے۔ایک کا کا م بچوں کو پڑھانا اور دوسری ٹیچر کا کام کلاس ورک کو دیکھنا ہے۔لمز سکول آف ایجوکیشن کی ٹیم نے اِس دورے میں مختلف سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں کا دورہ کیا۔ جن سکولوں میں دورہ کیا گیا اُن کی فہرست اور اُن کے چند مسائل درج ذیل ہیں۔
۔  گورنمنٹ ہائی سکول  (47/TDA)   تعداد طلبہ:863
اِس سکول کا سب سے بڑا مسئلہ طلبہ کی تعداد کے مطابق اساتذہ کا نہ ہونا ہے۔جس کی وجہ مقامی طور پر تعلیم یافتہ افراد کی کمی ہے۔دوسرا مسئلہ فصل کی کٹائی کے موسم میں حاضری کا نہ ہونا ہے اوراسی وجہ سے طلبہ کی تعلیم کا بہت حرج ہوتا ہے۔
۔  گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول  (GGPS 46/TDA)  تعداد طلبہ: 200
اِس سکول میں بچوں کے لیے کلاس رومز ناکافی ہیں جس کی وجہ سے طلباء اور اساتذہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔خاص طور پر سخت سردی اور گرمی میں بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

 

نومیڈ لٹریسی سکول  (Nomad Literacy School)     طلباء کی تعداد:  40
یہ سکول  9  سے  16  سال کے بچوں کے لیے بنانا گیا ہے مگر اِس میں بہت چھوٹی عمر کے بچے بھی پڑھ رہے تھے۔ اِس سکول کی خاص بات یہ ہے کہ یہ بغیر کمرے کے ہے اور ایک ہی استاد اِس میں تعلیم دے رہا ہے جس کی تنخواہ  5000روپے مہینہ ہے۔سکول کے واحد معلم دھوپ میں کھڑے ہو کر بچوں کو پڑھا رہے تھے اور بچے ایک جھونپڑے کے باہر چھاؤں میں بیٹھے تھے۔اِس سکول کے اِردگرد گندگی کے ڈھیر اور بیشمار مکھیاں موجود تھیں۔یہاں سکولوں کی ابتر حالت حکومت کی توجہ کی منتظر ہے۔ 
۔تعلیمِ بالغاں سکول  (  Adult Literacy School )   طلباء تعداد:  20
یہ سکول علاقے کی خصوصاً ان پڑھ خواتین کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ سکول کسی خاص عمارت میں نہیں ہے بلکہ اِس کو اُس جگہ پر منتقل کر دیا جاتا ہے جہاں پر پڑھنے والی خواتین مل جاتی ہیں۔یہ سکول علاقے کے کسی گھر کے ایک کمرے میں بنایا جاتا ہے۔اِس سکول کے استاد کو بھی 5000ہزار روپے ماہواردئیے جاتے ہیں۔
۔ زبیدہ اکیڈمی  (پرائیوئٹ سکول)   تعداد طلباء: 1000
سرکاری سکولوں کی حالت کی وجہ سے اِس علاقے میں پرائیویٹ سکول کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ضرورت اِس امر کی ہے کہ جہاں حکومت فوری طور پر سکول تعمیر نہیں کرسکتی وہاں مقامی لوگوں کے تعاون سے پرائیویٹ سکولوں کو تعمیر کیا جائے  اس  مقصد کے لیے پرائیویٹ سکولز کو اپنے اخراجات اور اساتذہ کی تربیت کے لیے حکومتی مدد درکار ہو گی۔  اِن دوروں سے لمز سکول آف ایجوکیشن کو بہت حد تک زمینی حقائق کو جاننے کا موقع مل گیا تھا۔اِس کے بعد ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں تعلیم سے متعلق لوگوں سے ملاقاتوں کا ایک سلسلہ تھا جس میں پرائیویٹ سکول تنظیم،مقامی ضلعی حکومت کے نمائندے اور سیاسی لوگ شامل تھے۔ اِن ملاقاتوں میں پرائمری، مڈل اور ہائر سکولوں میں تعلیم کے مسائل پر گفتگو ہوئی۔

پبلک سیکٹر ایجوکیشن        ( Public Sector Education )
سب سے پہلے پبلک سیکٹر ایجوکیشن مینیجرز سے ہماری ملاقات ہوئی اِس ملاقات میں بہت تفصیل سے مشکلات اور مسائل کے بارے میں گفتگو کی گئی۔یہ دور تین حصوں میں تقسیم تھا۔ ایک میں عام پبلک سکولوں کے منتظمین سے تبادلہ خیال ہوا دوسرے اور تیسرے حصوں میں محکمہ خواندگی اور مخصوص تعلیم کے منتظمین نے اظہارِ خیال کیا۔
محکمہ تعلیم کو ویسے تو بہت سے مسائل کا سامنا ہے مگر جس پر انہوں نے خاص طور پر زور دیا وہ 2095اساتذہ کی خالی آسامیوں پر بھرتی کا مسئلہ تھا۔ اسی مسئلہ کی وجہ سے محکمہ تعلیم کو بہت مشکلات کا سامنا ہے اِس مسئلہ کے بارے میں وجہ جاننے کی جب کوشش کی تو پتہ چلا کہ چونکہ یہ ایک پسماندہ علاقہ ہے اور یہاں زیادہ تر لوگ تعلیم یافتہ نہیں ہیں اور حکومت کی نئی پالیسی کے تحت بھرتی صرف NTSکے زریعے ہی ہو سکتی ہے اِس وجہ سے یہاں کے مقامی لوگ اس معیار کے مطابق امتحان پاس نہیں کر پاتے اور اساتذہ کی آسامیاں خالی رہتی ہیں۔اِس صورتحال کی وجہ سے تعلیم کو نقصان کا سامنا ہے۔
دوسرا اہم مسئلہ بھکر ضلع کی سب سے بڑی تحصیل مانکیرہ کا ہے۔ یہ تحصیل رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑی ہے مگر آبادی یہاں بہت کم ہے۔ اسی وجہ سے سکول بہت دور دور ہیں اور طلباء کو سکول تک جانے کے لیے پیدل بہت زیادہ سفر کرنا پڑتا ہے۔یہ تحصیل چونکہ زیادہ تر صحرا پر مشتمل ہے اور اِس علاقے کے لوگوں کا زریعہ معاش کھیتی باڑی ہے اِس لیے فصل کی کٹائی کے موسم میں بچے سکولوں سے غیر حاضر رہتے ہیں اور جب واپس سکول آتے ہیں تو اُن کی تعلیم کا کافی حرج ہو چکا ہوتا ہے۔اِس علاقے میں سکولوں کی تعداد ناکافی ہے بلکہ یہ سن کر حیرت ہوئی کہ سن2007ء سے کوئی بھی نیا سکول اِس علاقے میں نہیں بنایا گیا۔جو سکول ہیں اُن میں طلباء کی تعداد گنجائش سے زیادہ ہے۔بنیادی ڈھانچہ خاص طور پر کلاس رومز کی حالت انتہائی مخدوش ہے۔
پروگرام مونیٹرنگ اینڈایمپلیمینٹیشن  (Programme Monitoring & Implementation Unit)   کے مطابق ضلع میں 79% اضافی کلاس رومز کی فوری طور پر ضرورت ہے۔سکولوں میں طلباء بچیوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اِس کی وجہ وہ وظیفہ ہے جو طلباء بچیوں کو دیا جاتا ہے۔اِس وقت  19024بچیاں وظیفہ پر بھکر میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔طلباء بچیوں کی تعداد میں اضافے کے پیشِ نظر کئی سکولوں میں ڈبل شفٹ کا انتطام بھی کیا گیا ہے۔امید کی جاتی ہے کہ اِس طرح کے مزید سکول بنانے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔
محکمہ خواندگی     (Literacy Department)  
یہ محکمہ آبادی کے اُس حصے کو تعلیم فراہم کر رہا ہے جس نے بنیادی تعلیم بھی حاصل نہیں کی ہوتی۔اِن سکولوں کی نہ تو کوئی عمارت ہوتی ہے اور نہ ہی رسمی ڈھانچہ۔ یہ محکمہ اِس وقت غیر یقینی صورتحال سے گزر رہاہے۔کیونکہ اِس محکمہ کے زیادہ تر لوگ کنٹریکٹ پر بھرتی ہوئے ہیں اور سن 2009ء سے اِن کے کیٹریکٹ میں توسیع ہو رہی ہے۔آنے والے سن 2018ء کے الیکشن کے بعد بھی یہ اسی غیر یقینی مستقبل کا شکار رہیں گے۔اِن سکولوں کے اساتذہ کی حالت کا اندازہ اُن کی 5000 روپے تنخواہ سے ہی کیا جا سکتا ہے۔

پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن   (Private School Association)
ضلع بھکر میں کل پرائیویٹ سکولوں کی تعداد  400  ہے۔اِن سکولوں میں درمیانے اور بہت اچھے معیار کے سکول شامل ہیں۔  پرائیویٹ سکول مختلف مسائل کا شکار ہیں خصوصاًدرمیانے درجے کے سکول ٹیکسز اور دوسرے اخراجات کا بوجھ بہت مشکل سے اٹھا رہے ہیں اور بہت مشکل سے اپنی بقا ء کی جنگ لڑ رہے ہیں اِن مسائل کے ساتھ ساتھ ملک میں سکیورٹی کی صورتحال کی وجہ سے اِن سکولوں کو سکیورٹی کی مد میں بھی اضافی بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔اِس سلسلے میں یہ سکول حکومت سے مدد کی امید رکھتے ہیں۔یہ سکول کم سے کم قیمت میں اچھی تعلیم دینے کی کوشش کر رہے ہیں حکومت اِن اداروں سے مل بیٹھ کر کوئی لائحہ عمل طے کرسکتے ہیں۔اِس سلسلے میں 
 (PEF)  (Punjab Education Foundation)حکومت اور  پرائیویٹ  پاٹنرشپ کی بہترین مثال ہیں۔اِس پارٹنرشپ سے مقامی لوگوں کو تعلیم کے حصول میں بہت مدد مل رہی ہے اور اِس طرح اُن علاقوں میں بھی سکول کھلے ہیں جہاں گورنمنٹ کے سکول موجود نہیں۔
مقامی حکومت کے نمائندوں سے ملاقات:
اِس دورے میں مقامی حکومت کے نمائندوں سے بھی ملاقات ہوئی اِن میں ضلع بھکر کے میئر احمد نواز، میونسپل کارپوریشن کے دیگر ممبران اور اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر ملک کریم بخش بھی شامل تھے اِن لوگوں سے ملاقات میں یہ معلوم ہوا کہ مقامی نمائندوں کا مقامی تعلیم میں کوئی کردار نہیں ہے۔ اگر اختیارات مقامی حکومتوں کو منتقل کر دئے جائیں تو یہ لوگ اپنے علاقے کی ضروریات کے تحت علاقائی سطح پر تعلیم میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ 
مقامی حکومتی نمائندوں سے ملاقات میں ہمیں یہ بتایا گیا کہ بھکر کے لیے ایک دانش سکول بھی منظور ہو چکا ہے جس پر کل لاگت تقریباً چار ارب روپے آ رہی ہے۔ اتنی بڑی رقم سے تو پورے ضلع کے سکولوں کی حالت کو تبدیل کیا جا سکتا ہے بجائے اِس کے کہ چند سو بچوں کوبہت اچھی تعلیم دے کر باقی ساری آبادی کو محروم کر دیا جائے۔یہ وہی علاقہ ہے جہاں قطر کے شہزادے آکر شکار کرتے ہیں اور شاہانہ طرز پر کئی ماہ قیام کرتے ہیں اُسی علاقے کے لوگ زندگی کی بنیادی ضروریات صحت، تعلیم اور معاش کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ 
لمز سکول آف ایجوکیشن کی ٹیم اِن سب مصروفیات کے بعد بھکر کے ڈپٹی کمشنر جناب بلال حیدر سے ملی اُن سے مل کر ہمیں یہ پتا چلا کہ بھکر میں کوئی ایک بھی ادارہ ایسا نہیں ہے جو ماسٹرز کی ڈگری دے رہا ہو۔ اسی لیے نئی بھرتی کی پالیسی کے مطابق بھرتی صرف مقامی لوگ ہی حاصل کر سکتے ہیں جو کہ ماسٹرز کی ڈگری کے حامل ہوں مگر چونکہ یہاں اِس ڈگری تک پڑھے لکھے لوگ کم ہیں اِس لیے یہ ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔  ڈپٹی کمشنرصاحب اِس صورتحال سے کافی فکر مند دیکھائی دیئے۔
لمز سکول آف ایجوکیشن اور ڈپٹی کمشنر صاحب دونوں نے اِس بات پر اتفاق کیا کہ باہمی اشتراک سے کوئی ایسا لائحہ عمل تشکیل دیا جائے جس سے پالیسی سازی اور حکومتی عملہ کی تربیت کے لیے اقدامات کئے جاسکیں۔لمز سکول آف ایجوکیشن فیلڈ ورک کے زریعے علاقے میں تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے میں عملی طور پر اقدامات کرے گا۔لمز سکول آف ایجوکیشن ضلع بھکر کو تعلیمی اصلاحات کے لیے لیبارٹری کے طور پر بنانے کا کام شروع کر چکا ہے اور مفاہمت کی یاداشت کو ایک دو ماہ میں ہی حتمی شکل دے دی جائے گی۔  

 

 

 

پاکستان میں تعلیم
پاکستان میں تعلیم

پاکستان کو معرضِ وجود میں آئے 69برس بیت چکے ہیں اور ہم آج تک زندگی کے کسی بھی شعبے میں درست سمت کا . . .

ایک نشست سید بابر علی صاحب کے ساتھ ۔  بحران کے وقت میں رہنمائی
ایک نشست سید بابر علی صاحب کے ساتھ ۔ بحران کے وقت میں رہنمائی

جنوری میں مجھے ای او  (اینٹر پرینیور آرگنا ئزیشن) کی طرف سے ملک کی معزز اور معروف شخصیت  جناب . . .

پاکستان کے تعلیمی مسائل
پاکستان کے تعلیمی مسائل

اگر دنیا کی تاریخ کو پڑھا جائے تو یہ بات بڑے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ دنیا میں انہی لوگوں نے ترقی . . .