30 سالہ تعلیمی منصوبہ کی ضرورت

پاکستان کو معرضِ وجود میں آئے 69برس بیت چکے ہیں اور ہم آج تک زندگی کے کسی بھی شعبے میں درست سمت کا تعین نہیں کرپائے ہیں ۔جہاں دوسرے شعبہ ہائے زندگی میں خرابیاں اور ایک منزل نظر نہیں آرہی اسی طرح جب ہم تعلیمی شعبہ کو دوسری دنیا کے مقابل دیکھتے ہیں تو اس بات کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ ہم دنیا کے مقابلے میں تعلیم کے شعبہ میں بہت پیچھے ہیں۔اور دنیا کے برابر آنے کے لیے صدیوں کی مصافت طے کرنا باقی ہے ۔ہم ہر معاملے میں دوسروں کی نقالی کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ چاہے وہ مغربی رہن سہن ہو یا مغربی طریقہ تعلیم ،چاہے وہ انگریزی زبان ہو یا نصاب، ہم آج تک اپنی سمت کا تعین ہی نہیں کرپائے۔

ملک میں اس وقت دو طرز کا نظامِ تعلیم رائج ہیں ایک وہ جو سرکاری سکولوں میں پڑھایا جاتا ہے اور ایک وہ جو صرف صاحبِ حیثیت لوگوں کیلئے پرائیویٹ سکولوں میں پڑھایا جاتا ہے۔

محکمہ تعلیم کی طرف سے فراہم کردہ نظامِ تعلیم پانچ ادوار پر مشتمل ہے ۔

1۔ پرائمری ۔پہلی سے پانچویں تک

2۔ مڈل ۔ چھٹی سے آٹھویں تک

3۔ سیکینڈری ۔ نو یں سے دسویں تک

4۔ انٹر میڈیٹ ۔ گیارہویں سے بارہویں تک

5۔ ہائر ایجوکیشن۔ پندرہویں سے سولہویں تک اور اس سے آگے تک

دوسری طرف برٹش نظام تعلیم جس میں’ او ‘ اور ’اے‘ لیول کی پڑھائی کروائی جاتی ہے اس چیز سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ کہ ہم اپنے ملک میں دو طرح کے طبقے کو جنم دے رہے ہیں ۔ایک وہ جو غریب اور عام پاکستانی حاصل کررہا ہے ۔اور دوسری طرف اشرافیہ کے لیے الگ نظامِ تعلیم رائج ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ امیر اور غریب حاکم اور محکوم کے فرق سے قطع نظر ملک میں ایک ہی طرح کا معیارِِ تعلیم رائج ہو اور ہر ایک کے لیے یکساں مواقع میسر ہوں ۔ مگر یہ چیز ابھی ایک خواب ہے اور اس کے امکانات ابھی دور تک نظر نہیں آرہے سوائے خیبر پختونخوا میں جہا ں تعلیم اور صحت کے شعبے کو خصوصی توجہ دی جارہی ہے سنا یہی گیا ہے کہ وہاں یکساں معیارِ تعلیم پر کچھ پیش رفت ہوئی ہے ۔اور ایک کوشش کی گئی ہے کہ پہلی جماعت سے ایک ہی کورس رکھاجائے اب یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ قدم کس قدر نیک نیتی سے اٹھا یا گیا ہے۔اور کس قدر کامیاب ہوتا ہے۔

اس مسئلے سے ہٹ کر اگر دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ رائج نظامِ تعلیم کئی قسم کے دوسرے مسائل کا شکار بھی ہے مثلاً

1۔ نظامِ تعلیم زیادہ تر اندازوں پر قائم ہے۔

2۔ نظامِ تعلیم کی بہتری کے بجائے بچوں کے سکول میں داخلے اور کلاس روم کو بھرنے پر توجہ مرکوز ہے۔

3۔ نظامِ تعلیم حقیقی تعلیمی نظام سے بھٹک کر ایسی بھول بھلیوں کا شکار ہے جس میں بچوں کے یے آرام دہ تعلیم میسر نہیں ۔

4۔ نظامِ تعلیم تخلیق کے عمل کو ابھارنے کی بجائے رٹہ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔

5۔ نظامِ تعلیم عصری تقاضوں سے مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں ہے۔

6۔ شعبہ تعلیم میں پلاننگ کا فقدان نظر آتا ہے ۔ہر آنے والی حکومت یا تو اس مسئلہ کو کوئی مسئلہ نہیں سمجھتی یا پھر پالیسی ایسی بنائی جاتی ہے جو کہ وقتی ہوتی ہے۔

7۔ وسائل کی کمی بھی نظامِ تعلیم کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ چونکہ یہ شعبہ حکومتی تر جیحات میں شامل نہیں ہے اس لیے اعدادوشمار بہت خوفناک صورتحال بتاتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کا کم سے کم جی ڈی پی کی مد میں خرچ کرنے کا پیمانہ 4فیصد ہے اور پاکستان اپنے بجٹ کا 2.5% جی ڈی پی تعلیم پر خرچ کر رہا ہے جس میں 89%تنخواہوں کی مد میں چلا جاتا ہے باقی 11%ترقیاتی مد میں جاتا ہے۔معیاری تعلیم کے لیے یہ رقم انتہائی کم ہے۔اور اگر پچھلے چند سالوں کا موازنہ کیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ پاکستان تعلیم پر خرچ بڑھانے کی بجائے کم کر رہا ہے شاید اسی وجہ سے دنیا بھر میں غیر تعلیم یافتہ بچوں میں سے ہر دسواں بچہ پاکستانی ہے۔ نئے اعدادوشمار کی رو سے "الف اعلان"کے مطابق گورنمنٹ 2018ء  تک 4فیصد تک کا حدف حاصل کرنے میں ناکام رہے گی۔

چونکہ ہماری آبادی کا زیادہ تر حصہ غریب لوگوں پر مشتمل ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں کوزیادہ سے زیادہ تکنیکی تعلیم کی طرف مائل کیا جائے اور ان کو ہنر مند بنا کر روز گار کے بہترین مواقع دیئے جائیں ۔ مگر افسوس کہ تکنیکی تعلیم فراہم کرنے والے ادارے بہت ہی کم ہیں اور جو ہیں بھی وہ نا تجربہ کار اساتذہ ، بری حالت کے آلات اور جدید سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔

اس کے علاوہ اور بھی بہت سے مسائل ہیں جن کا صرف ایک تحریر میں احاطہ کرنا مشکل ہے۔ان سب حالات کے پیشِ نظر اس وقت اس بات کی اہمیت بڑی شدت سے محسوس کی جاتی ہے کہ اب ہمیں اپنے شعبہ تعلیم پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ ہم سب کو مل بیٹھ کراگلے 20سے 30سال کے لیے قومی حکمتِ عملی (پالیسی)بنانے کی ضرورت ہے جو آنیوالے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو ۔

 

یہ حکومتی ذمہ داری ہے کہ پورے ملک میں مختلف سطح پر یکسا ں معیارِ تعلیم کو رائج کیا جائے تاکہ ہر کسی کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع میسر ہوں ۔گورنمنٹ اور پرائیویٹ سیکٹر کو مل کر اس مسئلے کی طرف توجہ دینی چاہیے اور ساتھ ساتھ اپنے دیہی علاقو ں کو بھی تعلیم کی روشنی سے روشناس کرانے میں مدد دینی چاہیے ۔

حکومتوں کو چاہیے کہ مختلف علاقوں میں موجو د خالی پڑی عمارتوں کو استعمال میں لائے اور اگر حکومت فوری طور پر اتنا پیسہ ان جگوں پر خرچ کرنے کے قابل نہیں تو مل بیٹھ کر پرائیویٹ لوگوں یا اداروں کی مد د سے ان جگہوں کو آباد کیا جاسکتا ہے اور لوگوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کیا جاسکتا ہے۔

معیارِتعلیم کے اعتبار سے پاکستان کے اعدادوشمار پسماندہ افریقی ممالک سے بہتر نہیں ہیں اور اسی سے ہماری تعلیمی پستی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔برصغیر میں اگر دیکھا جائے تو ہندوستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا ہم سے بہت آگے ہیں اور ہمیں ا’ن سے سیکھنے کی ضرورت ہے ۔اب یہ ہماری انفرادی ، اجتماعی اور حکومتی ذمہ داری ہے کہ ہم ان حالات کا احساس کریں ۔ پورے ملک میں تعلیمی ایمر جنسی کا نِفاذ کریں اور خود کو برِصغیر کے دیگر ممالک کی طرح تعلیم کے میدان میں آگے لے جائیں ۔

یہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے ہم ایشیا ء اور پوری دنیا میں اپنی عزت اور مقام بنا سکتے ہیں

بقول علامہ اقبال !

حیرت ہے کہ تعلیم وترقی میں ہے پیچھے

جس قوم کا آغاز ہی اقراء سے ہوا تھا

 

 

 

 

 

ایڈنوویٹ پاکستان۔ تعلیم میں جدت (حصہ دوئم)
ایڈنوویٹ پاکستان۔ تعلیم میں جدت (حصہ دوئم)

ایڈنوویٹ پاکستان۔ تعلیم میں جدت " کے عنوان سے پہلے حصے میں تعلیم میں مالی جدت، سکولوں میں معیاری . . .

خیبر پختونخواہ میں تعلیمی اصلاحات
خیبر پختونخواہ میں تعلیمی اصلاحات

موجودہ حکومت کو کام کرتے ہوئے یہ پانچواں سال اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے اور 2018ء الیکشن کا سال . . .

غیر نصابی سرگرمیوں کی تعلیم میں اہمیت
غیر نصابی سرگرمیوں کی تعلیم میں اہمیت

آج کے تعلیمی ماحول کو دیکھتے ہوئے یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ہماری آج کی تعلیم کا مکمل انحصار . . .